بتایا گیا کہ کل صبح امتحان داخلہ ہوگا، اور اسی وقت یہ معلوم ہوگا کہ کن بزرگ کے پاس امتحان دینا ہے، اس مرحلہ سے فارغ ہوکر پھر دوستوں کے جھرمٹ میں جاپہونچا، اب شام تک چونکہ اور کوئی کام نہ تھا ، اس لئے ساتھیوں کے درمیان بیٹھ کر ان کے احوال دریافت کرنے لگا، میرا پہلا سوال یہ تھا کہ آخر سب کے نمبر یکساں کیوں ہیں ؟ اس کا جو جواب مجھے ملا، اسے سن کر میں تصویر حیرت بن کر رہ گیا، میں دیر تک سوچتا رہ گیا کہ ایسی پاکیزہ اور مقدس جگہ میں بھی لوگ ایسی حرکات کر گزرتے ہیں ! جواب ایسا نہیں ہے، جو قید تحریر میں لایا جاسکے، لیکن میں بے کم وکاست جو کچھ مجھ پر گزری ہے، اسے لکھنے بیٹھاہوں ، اس لئے اجمالاً لکھ رہاہوں ۔
جواب یہ تھا کہ جب ہم لوگ یہاں آئے تو فلاں صاحب سے ملاقات ہوئی، موصوف یہیں کے فاضل ہیں ، ان کی تعلیم کی میعاد ختم ہوچکی ہے، لیکن جدید طلبہ کو داخلہ میں مدد دینے کے لئے شوال تک یہیں مقیم ہیں ، جدید طلبہ چونکہ یہاں کے ماحول ، قواعدوضوابط سے ناواقف ہوتے ہیں ، پھر ماحول کارعب مزید براں ، ایسے میں جدید طلبہ کی رہبری کے لئے وہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ، ایسے لوگ خود کو نوواردوں کے لئے نعمت عظمیٰ ثابت کرتے ہیں ،اور پھر اس راستے سے ان طلبہ سے کچھ آمدنی کرلیتے ہیں ، وہ صاحب بھی اس مد میں تشریف فرماتھے، مبارک پور کے طلبہ بھی ان کے حلقے میں پہونچ گئے ، انھوں نے اطلاع بخشی کہ امتحان بہت سخت ہورہا ہے، فلاں فلاں حضرات سب کو فیل کررہے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ ان کے پاس امتحان نہ جائے ، اور اس کی تدبیر یہ ہے کہ فلاں منشی جو ان معاملات میں سب سے زیادہ دخیل ہیں ، انھیں ہموار کیا جائے ، وہ اگر چاہیں تو ایسے ممتحنوں کے پاس امتحان جاسکتا ہے، جو حسب دل خواہ نمبر دیں گے، اس کے لئے سب لوگ مل کر اتنی رقم جمع کردیں ، تاکہ معاملہ آسان ہو، پھر سب نے وہ رقم جمع کردی، دوسرے دن اس رقم کا یہ اثر ظاہر ہوا کہ ہمارے ساتھیوں کے امتحانات دو نرم مزاج اور سہولت والے حضرات کی خدمت میں پہونچ گیا، لیکن سفارش کا فطری اثر یہی ہونا تھا کہ ان حضرات نے سمجھ لیا کہ یہ