بلکہ جب تک دوسری کوئی کتاب نہ ملتی اسی کو دہراتا رہتاتھا ، اس طرح مضامین خوب مستحضر ہوجاتے تھے ، اس وقت میں نے ’’خلافت معاویہ ویزید‘‘ متعدد بار پڑھی تھی ، اس کے مضامین ومعلومات پر مجھے اعتماد نہ تھا کیونکہ اس کے خلاف کئی مضامین شائع ہوچکے تھے ، اور میں انھیں پڑھ چکا تھا ، مگر شیعہ کے مقابلے میں ا س سے میں نے بہت کام لیا۔
اس علاقے میں اشرف پور بھی متعدد بار جانا ہوا ، اشرف پور کے دو طالب علم اس وقت احیاء العلوم میں زیر تعلیم تھے ، ایک محمد شعیب اور ایک امام الدین !ان دونوں کی وجہ سے اشرف پور میں کئی جمعے گزارنے کا موقع ملا۔ ایک بار جمعرات کو ہم لوگ مغرب سے پہلے پہونچے ، نماز پڑھنے مسجد میں پہونچے ، تو جماعت اسلامی کاایک ہلکا پھلکا اجتماع ہورہاتھا ، مغرب کی نماز کے بعد تقریر یں ہونے لگیں ، میں بھی ٹھہرگیا ۔ مجھ سے کہا گیا کہ کچھ بیان کروں ، مجھے جماعت اسلامی سے مناسبت نہ تھی ، اس کا بیشتر مطبوعہ لٹریچر میں پڑھ چکاتھا ، میں نے مختصر سی تقریر کی اور اشارات میں جماعت اسلامی کے بعض طریقۂ کار کی نفی کی۔
مبارک پور کے قریبی مواضعات میں ایک موضع بلیا کلیان پور ہے ، وہاں کے بھی دوتین طلبہ پڑھتے تھے ۔ ایک مولوی محمد احسان تھے ، کبھی کبھی ان کے ساتھ بلیا بھی جاناہوا، جاڑے کا موسم تھا ، سخت سردی پڑرہی تھی ، مغرب کے بعد وہاں کی مسجد میں میری تقریر ہونی تھی۔ تقریر میں مَیں نے جہنم کے عذاب کوقدرے تفصیل سے بیان کیا تھا ، اس سے فارغ ہوکر ہم لوگ ایک بیٹھک میں پیال پر رضائی اوڑھے بیٹھے تھے ، ایک بوڑھے سادہ دیہاتی بھی بیٹھے ہوئے تھے ، انھوں نے سر اٹھایا ، اور دیہاتی لب ولہجہ میں ایک بات کہی جس پر سب لوگ ہنس پڑے ، کہنے لگے کہ مولوی صاحب! ہم لوگوں کو جہنم سے کیا ڈرارہے ہیں ، جہنم پورب سے بھری جائے گی ، ہم لوگوں تک آتے آتے بھر جائے گی ، پھر جگہ کہاں رہے گی کہ ہم لوگ جائیں ۔
میں نے عرض کیا کہ جہنم کے بھرے جانے کا یہ قانون نہیں ، وہ اعمال کی بنیاد پر بھری جائے گی ، اس مضمون کو قدرے تفصیل سے سمجھایا۔