،ان کو سبب ورود کے ساتھ خاص نہیں کیا ہے __معلوم ہوا کہ عام لفظ سبب ورود کے ساتھ خاص نہیں ہوتا ہے بلکہ اپنے عموم پر باقی رہتا ہے __ البتہ مصنفؒ فرماتے ہیں کہ تین جگہ ایسی ہیں جہا ں عام لفظ کو اس کے سبب کے ساتھ خاص کردیا جاتا ہے ،اپنے عموم پر باقی نہیں رکھا جاتا ہے۔
(ا) پہلی قسم یہ ہے کہ عام مستقل بالذات نہ ہو یعنی ماقبل والے کلام کے بغیر یہ مفید ِ معنی نہ ہو جیسے کسی نے کہااکان لی علیک الف درھم مخاطب نے جواب میں کہا نعم ،یا کسی نے کہا الیس لی علیک الف درھم مخاطب نے جواب میں کہا بلٰی،تو نعم اور بلٰی یہ دونوں لفظ عا م ہیں ، کلام کی بہت سی انواع کا جواب بن سکتے ہیں ،مگر مستقل بنفسہ نہیں ہیں،ماقبل سے متعلق کیے بغیر مفید ِ معنی نہیںہیں ،لہٰذا یہ سبب کے ساتھ یعنی ماقبل والے کلام کے ساتھ خاص ہونگے ۔
(۲)دوسری قسم یہ ہے کہ عام جزاء بن رہا ہو توبھی سبب کے ساتھ خاص ہوگا ،کیونکہ جزاء اپنے ماقبل سے مربوط ہوتی ہے جیسے راوی کا قول سھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسجد تو فسجد پر فا داخل ہونے کی وجہ سے جزاء کے درجہ میں ہے،سجد عام ہے سجدۂ سھو ،سجدۂ تلاوت،سجدۂ نماز سب کا احتمال رکھتا ہے مگر جزاء ہونے کی وجہ سے سبب کے ساتھ یعنی ماقبل والے کلام کے ساتھ خاص ہے اور یہاں سجدۂ سہو مراد ہے ۔
(۳) تیسری قسم یہ کہ عام جواب کی جگہ پر آرہاہو ،اگر چہ وہ مستقل کلام ہو ،مگر چونکہ جواب ہے لہٰذا یہ اپنے سبب کے ساتھ خاص ہوگا جیسے کسی نے خالد کو کہاآؤ ناشتہ کرلو ،خالد نے اس کے جواب میں کہا ،اگر میں ناشتہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ،تو یہ کلام عام ہے جو اس ناشتہ کو بھی شامل ہے ،گھر جاکر ناشتہ کرنے کو بھی شامل ہے ،مگر چونکہ وہ جواب کی جگہ ہے لہٰذا اسی ناشتہ کے ساتھ یہ کلام خاص ہوگا ،اگر گھر جاکر ناشتہ کرے گا تو طلاق نہ پڑے گی ۔
ان تین قسموں میں تو عام بالاتفاق اپنے سبب کے ساتھ خاص ہوگا ۔
(۴) البتہ ایک چوتھی قسم ہے جس میں اختلاف ہے ،وہ یہ ہے کہ تیسری قسم میں جو جواب ہے اگر مخاطب اس جواب کی مقدار کو بڑھاکر کہے جیسے اس نے بلایا کہ آؤ ناشتہ کرلو ،تو خالد نے کہا اگر میں آج ناشتہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق -- تو الیوم کا اضا فہ کیاتو ہمارے نزدیک یہ جواب پر محمول نہ ہوگا بلکہ ازسرنو کلام یعنی نیا کلام سمجھا جائے گا ، لہٰذا آج کے دن میں اگر یہ کہیں بھی ناشتہ کرے گا بیوی پر طلاق پڑ جائے گی، یہ عام ہوگا کیونکہ اگر اس کلام کو ماقبل کا جواب قرار دیں تو الیوم کی زیادتی لغو ہوجائے گی اس لئے کہ الیوم کے بغیر بھی جواب مکمل ہے ،لہٰذا زیادتی کو لغو ہونے سے بچانے کے لئے اس کو مستقل کلام مانا جائے گا اور جب مستقل ہوگیا تو اپنے عموم پر رہے گا ۔
ان حضرات کے نزدیک اس صورت میں بھی یہ کلام ماقبل کا جواب ہی سمجھا جائے گا ،اور دلالت حال اس کی دلیل