ورنہ انصار مدینہ اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہ سمجھتے ۔
وھذا فاسد: لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ استدلال کا طریقہ فاسد ہے ، اس لئے کہ نص منصوص علیہ کے علاوہ یعنی مسکوت عنہ کو شامل ہی نہیںہے تو مسکوت عنہ میں اس نص سے نفی یا اثبات کا حکم کیسے لگ سکتا ہے؟جیسے جاء زید کہا تو یہ کلام زید کے آنے کو ثابت کرتا ہے مگر حامد یا خالد کو یہ کلام شامل ہی نہیں ہے تو خالد اور حامد پر آنے یا نہ آنے کا حکم اس کلام سے کیسے لگ سکتا ہے__ ورنہ حضرت! اس طرح استدلال سے تو گڑ بڑ بھی ہو سکتی ہے جیسے’’محمد رسول اللہ‘‘ کہا اس میں یہ استدلال کریںگے تو مطلب ہوگا کہ رسول ہونے کا حکم محمدﷺ کے ساتھ لگایا گیا اور یہ حکم محمد ﷺکے ماعدا سے منتفی ہے،تو مطلب یہ ہوگا کہ محمد ﷺکے علاوہ کوئی رسول ہی نہیںہے، تو یہ مستلزمِ کفر ہوگا۔
رہ گیا یہ سوال کہ انصار مدینہ نے کیسے یہ سمجھا ؟تو حضرت !انصار مدینہ نے اس قاعدہ پر یہ نہیں سمجھا ہے، بلکہ معہود خارجی نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے الف لام کو استغراق پر محمول کیا ہے یعنی تمام افراد غسل منحصر ہیں خروج منی پر لہٰذا منی کا خروج ہوگا تو غسل واجب ہوگا،ورنہ نہیں ،تو انصار کا استدلال لام استغراق سے ہے نہ کہ اس طریقہ پر جو آپ نے بیان کیا __ مگر احناف جو جماع بدون الانزال کی صورت میں بھی وجوب غسل کے قائل ہیں تو ان کی طرف سے ایک جواب تو یہ ہے کہ اکسال سے غسل کا عدم وجوب ابتداء اسلام میں تھا بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، اور ادخال سے غسل واجب قرار دیا چاہے منی نکلے یا نہ نکلے اور اگر حدیث منسوخ نہ ہو تو یہ جواب دیا جائے گاکہ خروج منی کی دو قسمیں ہیں ،حقیقۃ ً منی کا خروج ہو جیسا کہ ظاہر ہے اور حکما ًوتقدیرا ً منی کا خروج جیسے التقاء ختانین پایاگیا جو خروج منی کا سبب ہے تو گویا تقدیرًا مسبب (خروج منی )بھی پایا گیا،یعنی تقدیرا ً التقاء ختانین کو منی کے قائم مقام مان لیںگے جیسے سفر کو مشقت کے قائم مقام مان لیا گیا ۔
وَمِنْھَامَاقَالَ الشَّافِعِیُّؒ اِنَّ الْحُکْمَ مَتٰی عُلِّقَ بِشَرْطٍ اَوْاُضِیْفَ اِلٰی مُسَمًّی بِوَصْفٍ خَاصٍّ اَوْجَبَ نَفْیَ الْحُکْمِ عِنْدَ عَدَمِ الشَّرْطِ اَوِالْوَصْفِ وَلِھٰذَا لَمْ یُجَوِّزُنِ نِکَاحَ الْاَمَۃِ عِنْدَ فَوَاتِ الشَّرْطِ اَوِالْوَصْفِ الْمَذْکُوْرَیْنِ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ مِنْکم طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُوْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِنْ فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ
ترجمہ:-اور ان وجوہ فاسدہ میں سے ایک وہ ہے جو امام شافعی ؒ نے فرمایا کہ حکم جب کسی شرط کے ساتھ معلق ہو، یا حکم کسی مسمی کی طرف منسوب ہو کسی وصف خاص کے ساتھ تو یہ شرط یاوصف کے نہ ہونے کے وقت حکم کی نفی