میسرہ کا دوام شرط ہے ،اگر قدرت میسرہ باقی نہ رہے گی تو وہ واجب بھی باقی نہ رہے گا __کیونکہ واجب میں جب ابتداء سے ایک صفت یعنی یسر ہے، اسی کے ساتھ مشروع ہوا ہے، تو وہ واجب اسی صفت کے ساتھ باقی رہے گا۔
ولھذا قلنا:-واجب کی بقاء کے لئے قدرت ِمیسرہ کا دوام شرط ہے اس لئے احناف کہتے ہیں حولانِ حول کے بعد زکوۃ کی ادائیگی سے پہلے مال ہلاک ہوجائے تو زکوۃ ساقط ہوجائے گی، __ اگرچہ امام شافعیؒ کے نزدیک زکوۃ ساقط نہ ہوگی کیونکہ حولانِ حول کے بعد ادائیگی پر قدرت کی وجہ سے وجوب ثابت ہوچکا اب یہ مال ہلاک ہونے سے ساقط نہ ہوگا __ہمارے نزدیک زکوۃ ساقط ہوجائے گی، پورا مال اگر ہلاک ہوگیا ہے تو پوری زکوۃ ساقط اوربعض مال ہلاک ہوا ہے تو اس کے حصہ کے بقدر زکوۃ ساقط ہوجائے گی ،اور اگر اس نے ہلاک کردیا ہے تو ہمارے نزدیک بھی ساقط نہ ہوگی ، کیونکہ تعدی ہوئی تو بطور زجر کے وجوب باقی رہے گا__ بہرحال مال ہلاک ہونے سے زکوۃ ساقط ہوجائے گی__ اسی طرح پیداوار ہلاک ہوگئی تو عشر ساقط ہوجائے گا __ اسی طرح اگر آسمانی آفت سے کھیتی برباد ہوگئی تو خراج ساقط ہوجائے گا__ کیونکہ زکوۃ ،عشر ، اور خراج یہ تینوں چیزیں شریعت نے یسر کے ساتھ واجب کی ہیں ، کیونکہ زکوۃ میں مالِ نامی ہونا اور حولان حول کو شرط قرار دیا جس سے یسر پیدا ہوگیا, جب کہ زکوۃ نفس مال پر بھی بغیر حولان حول اور مالِ نامی کے واجب ہوسکتی تھی ، اسی طرح عشر حقیقۃً پیداوار کے ساتھ واجب کیا گیا، اس سے یسر اور سہولت ہوگئی جبکہ عشر نفس ِ زراعت پر بھی واجب ہوسکتا تھا، چاہے حقیقۃً پیداوار نہ ہو، اسی طرح خراج میں بارش اور آلات حرث کے ذریعہ زراعت کی قدرت کو شرط قرار دیا یہ یسر کی دلیل ہے ورنہ زمین کے رقبہ پر بھی خراج لگایا جاسکتا تھا۔
خلاصۂ کلام یہ کہ تینوں چیزوں میں قدرتِ میسرہ شرط ہے، اور واجب کے بقاء کے لئے قدرتِ میسرہ کا دوام شرط ہے لہٰذا جب قدرت فوت ہوگئی تو تینوں چیزوں میں وجوب ساقط ہوجائے گا۔
وَلِھٰذَا قُلْنَا اِنَّ الْحَانِثَ فِی الْیَمِیْنِ اِذَاذَھَبَ مَالُہٗ کَفَّرَ بِالصَّوْمِ لِاَنَّ التَّخْیِیْرَ فِیْ اَنْوَاعِ التَّکْفِیْرِ بِالْمَالِ وَالنَّقْلَ عَنْہٗ اِلَی الصَّوْمِ لِلْعَجْزِ فِی الْحَالِ مَعَ تَوَھُّمِ الْقُدْرَۃِ فِیْمَا یَسْتَقْبِلُ تَیْسِیْرًا لِلْاَدَآءِ فَکَانَ مِنْ قَبِیْلِ الزَّکٰوۃِ اِلَّا اَنَّ الْمَالَ ھٰھُنَا غَیْرُعَیْنٍ فَاَیُّ مَالٍ اَصَابَہٗ مِنْ بَعْدُ دَامَتْ بِہٖ الْقُدْرَۃُ وَلِھٰذَاسَاوَی الْاِسْتِھْلَاکُ الْھَلَاکَ ھٰھُنَا لِاِنْعِدَامِ التَّعَدِّیْ عَلٰی مَحَلٍّ مَّشْغُوْلٍ بِحَقِّ الْغَیْرِ
ترجمہ:-اور اسی وجہ سے ہم نے کہا کہ قسم میں حانث ہونے والا جب اس کامال ختم ہوجائے تو وہ روزے سے