امام شافعیؒ کی دلیل یہ ہے کہ یمین اور تعلیق فی الحال حکم کے لئے یعنی کفارہ اور جزا کا صرف سبب ہیں ،علت نہیں ہیں،کیونکہ اگر علت ہوتے تو یمین یعنی قسم کھاتے ہی کفارہ واجب ہوجاتا ،اور تعلیق کرتے ہی جزا مرتب ہوجاتی،حالانکہ کفارہ اور جزا حانث ہونے اور شرط کے پائے جانے تک مؤخر ہیں، معلوم ہوا کہ یمین اور تعلیق علت نہیں ،صرف سبب ہیں کیونکہ یمین کفارہ کی طرف مفضی ہے اور تعلیق جزا یعنی حکم کی طرف مفضی ہے ،تو صرف سبب بنے مگر چونکہ یمین حنث کے وقت کفارہ کو واجب کرتی ہے اور تعلیق وجود ِشرط کے وقت حکم یعنی جزا کو واجب کرتی ہے ،تو یمین کا موجب ِ کفارہ ہونا اور تعلیق کا موجب جزا ہونا یہ علامت ہے علت ہونے کی ،کیونکہ علت اس کو کہتے ہیں جس کی حکم میں تاثیر ہوتی ہے،اور یہاں یمین مؤثر ہے وجوبِ کفارہ میں اور تعلیق مؤثر ہے وجوب ِجزا میں ،لہٰذا یمین اور تعلیق صرف سبب نہیں ہوئے بلکہ سبب فیہ معنی العلۃ ہوئے۔
یہاںتک تو ہمارے اور امام شافعیؒ کے درمیان اختلاف بیان ہوا ،آگے ہمارے اور امام زفر کے درمیان اختلاف بیان کررہے ہیں ،ہمارے اور امام زفر کے درمیان یہاںتک تو اتفاق ہے کہ یمین اور تعلیق سبب ِمجازی ہیں،علۃ العلۃ یعنی سبب فیہ معنی العلۃ نہیں ہیں،البتہ پھر اس میں اختلاف ہے کہ سبب ِمجازی کس نوعیت کا ہے ۔؟
امام زفرؒ فرماتے ہیں کہ سبب ِمحض ہیں ،اور ہم کہتے ہیں کہ یمین وتعلیق سببیت میں مجازِ محض نہیں ہیں ،بلکہ ان میں حقیقت ِسببیت کے ساتھ مشابہت ہے،تو امام شافعی کے مذہب میں افراط ہے،امامِ زفر کے مذہب میں تفریط ہے کہ انہوں نے اس کو سببیت سے ہی خارج کردیا ،اور فرمایا کہ مجازا ًاس کو سبب کہا گیا ہے اور ہمارا مذہب دونوں کے درمیان ہے۔
ویتبین ذلک:-ہمارے ا ورامام زفرؒ کے درمیان ثمرہ ٔاختلاف اس صورت میں ظاہر ہوگا کہ کسی نے اپنی بیوی کو اس طرح طلاق دی ان دخلت الدارفانت طالق ثلاثاً،یعنی تین طلاقوں کو دخول دار کے ساتھ معلق کیا ،پھر وجود ِشرط سے پہلے شوہر نے مُنَجَّز تین طلاقیں دیدی،بیوی عدت پوری کرکے حلالہ کرکے پھر زوج اول کے نکاح میں آگئی ،پھر دخول ِدار کی شرط پائی گئی تو کیا پہلے نکاح والی تعلیق سے طلاق پڑے گی یا وہ تعلیق باطل ہوگئی ؟۔
ہمارے نزدیک تنجیزاًطلاق کی وجہ سے تعلیق باطل ہوگئی ،لہٰذا اب شرط پائے جانے پر طلاق واقع نہ ہوگی ،اور امام زفرؒ فرماتے ہیں کہ تعلیق باطل نہ ہوگی ،بلکہ وجودِ شرط کے وقت تعلیق سابق کی وجہ سے طلاق پڑے گی۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ’’ انت طالق ثلاثا‘‘تعلیق کے وقت محض مجازاً سبب ہے،حقیقت کا کوئی شبہ نہیں ہے ،لہٰذا ’’انت طالق‘‘ جب حقیقتۃً سبب نہیں ہے تو اس کے لئے ابھی محل کی بھی ضرورت نہیں ہے ،محل کی ضرورت پڑے گی وجودِ شرط کے وقت ، پس تنجیزاًطلاق سے جب محل زائل ہوگیا، تو اس کی وجہ سے سابقہ تعلیق باطل نہ ہوگی -پھرجب وہ