علامت ہے کفارہ کے عبادت ہونے کی __اور کفارہ عقوبت اس لئے ہے کہ کفار ہ واجب ہوتاہی ہے کسی حرام فعل کے ارتکاب کرنے پر بطور سزا کے،دیگر عبادات کی طرح کفارہ ابتداء ً واجب نہیں ہوتا ہے،نیز کفارہ کے معنی ہیں چھپانا اور کفارہ کو کفارہ کہتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ گناہوں کو چھپالیتا ہے،غرض کفارہ میں دونوں جہتیں ہیں،لیکن ہمارے نزدیک اس میں جہتِ عبادت غالب ہے،سوائے کفارۂ ظہار کے کہ اس میںعقوبت کی جہت غالب ہے ،کیونکہ وہ منکراًمن القول وزورًاہے۔
(۵)ایسی عبادت جس میں مؤنت کے معنی ہوں،مؤنت کے معنی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا،اسی لئے اس میںکامل اہلیت یعنی عاقل بالغ ہونا بھی شرط نہیں ہے،جو خالص عبادت کے لئے شرط ہوتی ہے، معلوم ہوا کہ اس میں مؤنت کے معنی ہیں،عبادتِ خالصہ نہیں ہے ،__جیسے صدقۂ فطر اس میں عبادت کی جہت اس لئے ہے کہ روزہ دار سے جو لغو اور رفث ہوا ہے صدقۂ فطر اس سے طہارت کا ذریعہ ہے،یہ دلیل ہے عبادت ہونے کی،__اور صدقۂ فطر کا سبب راس ہے،یعنی انسان جن کا خرچ برداشت کرتا ہے ،اور کفالت کرتا ہے، جیسے چھوٹے بچے ،غلام مملوک،ان سب کا نفقہ آدمی پر ہوتا ہے، اس لئے ان کا صدقۂ فطربھی آدمی پر ہوتا ہے تو صدقۂ فطر میں راس کا سبب ہونایہ دلیل ہے کہ اس میں مؤنت کے معنی ہیں،جیسے نفقہ کی مؤنت ہے ایسے ہی صدقہ کی مؤنت اورذمہ داری بھی ہے ،لیکن عبادت کا پہلو غالب ہے اس لئے کہا عبادۃ فیھا معنی المؤنۃ۔
(۶)ایسی مؤنت جس میںعبادت کے معنی ہوں جیسے عشر،عشردرحقیقت زراعت والی زمین کی آدمی پر ایک زائدبارِ ذمہ داری ہے جو ایک طرح کی مؤنت ہے،اگر آدمی اسے ادانہیں کرے گاتو حکومت زمین اس سے لے لیگی،__لیکن اس میں عبادت کے معنی بھی ہیں اس لحاظ سے کہ عُشْر صرف مسلمان پر واجب ہوتا ہے،جیسے اور عبادتیں مسلمان پر واجب ہوتی ہیں،اسی لئے عشر کافر پر ابتداء ً واجب نہیںہوتا ،کیونکہ کافر عبادت کا اہل نہیں ہے ،البتہ بقاء ًامام محمد کے نزدیک کا فر پر عشر واجب ہوتا ہے ،یعنی کسی ذمی کافر نے مسلمان سے عشری زمین خریدی تو اس کافرذمی پر مؤنت کا اعتبار کرتے ہوئے عشر باقی رہے گا ،کیونکہ کافر مؤنت کا اہل ہے ،اگر چہ عبادت کا اہل نہیں ہے ،غرض عبادت کے معنی کی رعایت میں کافر پر ابتداء ً عشر نہیں اور مؤنت کے معنی کی رعایت کر تے ہوئے بقاء ًکا فر پر عشر ہوگا، نیز عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ کے مصارف ہیں،یہ دلیل ہے عشر کے عبادت ہونے کی ۔
(۷)ایسی مؤنت جس میں عقوبت کے معنی ہوں،جیسے خراج،خراج بھی درحقیقت زمین کاٹیکس ہے ،جس میں وہ زراعت کرتا ہے، اگر نہ اداکرے گا تو حکومت زمین لے لیگی،__لیکن اس میں عقوبت کے معنی بھی ہیں، اسی وجہ سے خراج ابتداء ًمسلمان پر لاگو نہیں ہوتا ہے ،کیونکہ مسلمان عقوبت وذلت کا اہل نہیں ہے ابتداء ً__ لیکن چونکہ خراج میں