مؤنت کے معنی اصل ہیں، اس لئے بقاء ًمسلمان پر خراج لازم ہوگا کیونکہ مسلمان مؤنت کا اہل ہے ، بقاء ًکا مطلب یہ ہے کہ مسلمان نے کافر سے خراجی زمین خریدی یا کافر مسلمان ہوگیا اور اس کے پاس خراجی زمین ہے تو مسلمان سے خراج لیا جائے گا ،غرض عقوبت کے معنی کی رعایت کرتے ہوئے مسلمان پر ابتداء ً خراج نہیں ہے اور مؤنت کے معنی کی رعایت میں بقاء ً مسلمان پرخراج ہوگا۔
(۸)ایسا حق جو بذاتِ خود قائم ہو،بندے کے ذمہ سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو،جیسے غنیمتوں اور معدینات کا پانچواں حصہ، کیونکہ جہاد اللہ تعالیٰ کا حق ہے تو جہاد سے حاصل ہونے والا سارا مال اللہ کے لئے ہونا چاہیے تھا ،مگر اللہ نے احسان وفضل کرکے چار حصے تو مجاہدین کودے دئے ،اور ایک خمس اپنے لئے باقی رکھا، تو یہ خمس ایسا حق ہے جو ہمارے اوپر بطور طاعت کے اداکرنا لازم نہیں ہے ،بلکہ یہ تو اللہ نے اپنے لئے باقی رکھا ہے،پھر اپنے نائب یعنی حاکم ِوقت کو اس کی تقسیم کا ذمہ دار بنایا__ اسی طرح معدنیات یعنی زمین کے اندر سونے چاندی کے خزانے جو اللہ نے پیدا کئے ہیں ،تو یہ بھی سارے معدینات اللہ کے ہی ہونے چاہئیں ،مگر اللہ نے فضل واحسان کرکے اس کے پانچ حصے کرکے چار حصے زمین کے مالک کو دے دئے اور ایک خمس اپنے لئے رکھا ،اور یہاں بھی حاکم ِوقت کو ذمہ دار بنایا __پس جب جہاد میں حاصل ہونے والا مال اور معدن کا مال اللہ تعالیٰ کا ایسا حق ہے جو بذاتِ خود قائم ہے، بندوں پر بطریقِ عبادت لازم نہیں ہے ،تو یہ خمس کا مال غانمین اور معدن پائے والوں پر بھی صرف کرنا جائز ہے،جو چار اخماس کے مستحق بنے ہیں،یعنی اگر یہ حضرات جو چار خمس کے مستحق بنے ہیں ،یہ محتاج ہوں تو خمس جو اللہ کا حق ہے وہ ان کو دیا جاسکتا ہے، اور ان کی اولاد اور آباء کو بھی دیا جاسکتا ہے،کیونکہ یہ ایسا حق ہے جو بذاتِ خود ثابت ہے،اگر یہ خمس ایسا حق نہ ہوتا جو بذاتِ خود ثابت ہے بلکہ بندوں پر بطریقِ طاعت واجب ہوتا جیسے زکوۃ،بندوں پر بطریقِ طاعت واجب ہے__ تو چار اخماس والوں کو دینا جائز نہ ہوتا، جیسے زکوۃ اداکرنے والے اگر چہ محتاج ہوں تو ان کی زکوۃ کا مال ان پر اور ان کے آباء واولاد پر صرف کرنا جائز نہیں ہے __اس تحقیق سے کہ خمس بذاتِ خود قائم حق ہے،بندوں کے ذمہ سے اس کوئی تعلق نہیں ہے__ معلوم ہوا کہ خمس لوگوں کا میل کچیل نہیں ہے،جیسے زکوۃمیل کچیل ہے،لہٰذا جب میل کچیل نہیں تو خمس بنی ہاشم کو بھی دیا جاسکتا ہے،جب کہ زکوۃ بنی ہاشم کے لئے جائز نہیں ہے،کیونکہ وہ میل کچیل ہے۔
مصنفؒ فرماتے ہیں کہ خالص بندوں کے حقوق تو انگنت ہیں،بیشمار ہیں، جیسے تلف کئے ہوئے مال کا ضمان، ضمانِ دیت،مغصوب کا ضمان ،ملک ِ ثمن ،ملک ِ مبیع ،ملک طلاق وغیرہ یہ سب بندوں کے حقوق ہیں۔
وَاَمَّا الْقِسْمُ الثَّانِیْ فَاَرْبَعَۃٌ اَلسَّبَبُ وَالْعِلَّۃُ وَالشَّرْطُ وَالْعَلَامَۃُ اَمَّا السَّبَبُ