ِ شرعیہ احکام شرع کی دلیلیں اور علامات ہوتی ہیں ،لہٰذا جہاں بھی علت ہو گی وہ حکم کوثابت کرے گی اور حکم کی دلیل ہوگی،اگر حکم کا علت سے تَخَلُّفْ ہواتو منا قضہ ہوگا یعنی علت چاہے گی کہ حکم ثابت ہواورتخلف چاہے گا کہ حکم ثابت نہ ہوحالانکہ ایک ساتھ دونوں باتیں ناممکن ہیں ،اس کا نام ہے مناقضہ ،معلوم ہواکہ مانع کی وجہ سے بھی تخلف باطل ہے۔
معترض کہتا ہے کہ آپ استحسان (قیاسِ خفی ) کی وجہ سے قیاسِ جلی کو چھوڑدیتے ہیں ،تو یہ تخصیصِ علت ہی ہوا ، کیونکہ قیاسِ جلی موجودہے اور آپ نے اس کو چھوڑکر استحسان پر عمل کیا،تو گویا قیاس ِ جلی میںجو علت ہے اس کو ایک مانع(استحسان کے مقابل میں آنے)کی وجہ سے چھوڑدیا، اسی کا نام تخصیصِ علت ہے،مصنفؒ اسی کا جواب دے رہے ہیں کہ استحسان تخصیصِ علت کے قبیل سے نہیں ہے،یعنی ایسا نہیں ہے کہ استحسان کی وجہ سے قیاسِ جلی میں تخصیص ہوئی کیونکہ قیا س میں جو وصف علت ہے،جب اس کے مقابل میں نص ،اجماع یا ضرورۃ آجائے گی تو قیاس کی علت وہ باقی ہی نہیں رہے گی ،کیونکہ قیاس کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ وہ نص کے مقابلہ میں نہ ہو ،جب اس کے مقابل میں نص ہوگی تو قیاس صحیح نہ ہوگا، تو اس کی علت باقی نہ رہے گی __اور نص ،اجماع اور ضرورۃ تینوں ایک درجہ میں ہیں ،کیونکہ ضرورۃ اجماع کے درجہ میں ہے اور اجماع کتاب وسنت کے مثل ہے،لہٰذا جیسے نص کے مقابلہ میں قیاس صحیح نہیں ہے ،ایسے ہی اجماع اور ضرورۃ کے مقابلہ میں بھی قیاس صحیح نہیں ہوا ،تو اس کی علت بھی نہ رہی لہٰذا تخصیص علت والا اعتراض واقع نہ ہوگا ۔
معترض کہتا ہے کہ ان تین چیزوں میں تو آپ کی بات سمجھ میں آگئی کہ نص اجماع اور ضرورۃکے مقابلہ میں قیاس باقی نہیں رہتا__ لیکن اگر قیاس ِجلی کے مقابل میں استحسان آجائے تویہاں تو آپ کو تخصیصِ علت کا قائل ہوناپڑے گا،کیونکہ یہاں تو دوقیاسوں میں ٹکراؤ ہے،مصنف اسی بات کو اگلی عبارت میں واضح کررہے ہیں۔
وکذا اذا عارضہ :-اسی طرح جب استحسان قیاس جلی کے معارض ہوگا تو قیاسِ جلی کا عدم ثابت ہوگا یعنی قیاس جلی باقی ہی نہیں رہے گا کیونکہ استحسان (قیاس ِخفی)قوی التاثیر ہے تو اس کو ترجیح ہوگی، اور اس کے مقابلہ میں قیاس جلی باقی ہی نہ رہے گا ،نہ اس کی علت باقی رہے گی، تو عدم ِ حکم عدمِ علت سے ہوا،یہ نہ کہنگے کہ علت توباقی ہے مگر مانع کی وجہ سے حکم نہ پایا گیا ،خلاصہ یہ ہوا کہ استحسان کسی بھی اعتبار سے تخصیص ِعلت کے قبیل سے نہیں ہے۔
صاحب حسامی کہتے ہیں کہ جوبات ہم نے استحسان وقیاس میں کہی کہ عدمِ حکم عدم ِعلت کی وجہ سے ہوا،تمام عِللِ مؤثرہ میں ہم یہی بات کہتے ہیںکہ جہاںبھی حکم کا تخلف ہوگا عدم ِعلت کی وجہ سے ہوگا۔
وبیان ذلک:-مذکورہ اختلاف پرتفریع پیش کررہے ہیں کہ اگر کسی روزہ دار کے حلق میں زبردستی پانی ڈال دیا گیا تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا، کیونکہ روزہ کا رکن (امساک) فوت گیا،__اس پر اعتراض ہوگا ناسی کا کہ بھول کراگر