محمدؔ :اسم مفعول ہے بمعنی تعریف کیا ہوا،محمد اور احمد دونوں رسول اکرم ﷺ کے اسماء گرامی ہیں، دادا نے محمد نام رکھا اور ماں نے احمد ،آپ کو زمین میں محمد اور آسمانوں میں احمد سے یاد کیا جاتا ہے ،تورات میں آپ ﷺکا نام محمد اور انجیل میں احمد ہے۔
آلہ:ؔ آل کی اصل اہل ہے اس لئے کہ اس کی تصغیر اُہیل آتی ہے، بعض کے نزدیک آل اصل میں اَوَل تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح ہونے کی وجہ سے الف سے بدل دیا آل ہوگیا۔
آل اور اہل میں فرق یہ ہے کہ آل کا اطلاق اشراف پر ہوتا ہے،خواہ دنیوی اعتبار سے جیسے آل فرعون یا اخروی شرافت ہو جیسے آل محمد،آپ ﷺکو دونوں اعتبار سے شرافت حاصل ہے، لہٰذا آپﷺ کی آل کو بھی دونوں لحاظ سے شرافت ہوگی،دوسرافرق یہ ہے کہ آل صرف ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اہل دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔
تیسرا فرق یہ ہے کہ آل صرف مذکر کے لئے اور اہل مذکر ومونث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
امام ابو حنیفہ کے نزدیک آلِ محمد سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اورمال غنیمت سے ان کے لئے خُمس مقرر ہے ،آپﷺ کی ازواجِ مطہرات واولادسب آپ کی آل ہیں،بعض کہتے ہیں کہ ہر مومن متقی آپ کی آل ہے واللہ اعلم۔
مصنف ؒ کہتے ہیںکہ شریعت کے اصول یعنی اَدِلّہ تین ہیں،کتاب اللہ ،سنت اور اجماع ِامت،مصنف نے اصول الشرعکہااصول الفقہ نہیں فرمایا، کیونکہ کتاب،سنت اور اجماع جس طرح فقہ کے اصول ہیںایسے ہی علم کلام کے بھی اصول ہیںاور لفظِ شرع چونکہ فقہ اورعلم کلام دونوں میں عام ہے،اس لئے اصول الشرع فرمایا تاکہ دونوں کو شامل ہو جائے۔
مذکورہ تین اصول کے بعد چوتھی اصل وہ قیاس ہے جومذکورہ تین اصول ودلائل سے مستنبط ہو، المستنبط من ھذہ الاصول کی قید سے اس طرف اشارہ کردیا کہ یہاں مطلق قیاس مراد نہیں بلکہ قیاس شرعی مراد ہے۔
نیز یہاں الاصل الرابع کہہ کر قیاس کو پہلے تین اصول سے الگ بیان کیا، اس لئے کہ قیاس من وجہ اصل ہے ، من وجہ فرع ہے بر خلاف پہلے تین اصول کے کہ وہ من کل وجہ اصل ہیں۔
اَمَّاالْکِتَابُ فَا لْقُرْاٰنُ الْمُنَزَّلُ عَلَی الرَّسُوْلِ الْمَکْتُوْبُ فِی الْمَصَاحِفِ اَلْمَنْقُولُ عَنْہُ نَقْلًا مُتَوَا تِراً بِلَا شُبْھَۃٍ وَھُوَ النَّظْمُ وَالْمَعْنٰی جَمِیْعًا فِی قَوْلِ عَامَّۃِ الْعُلَمَاءِ