اس کا بھی اہل ہے کہ اس پر کوئی چیز واجب ہو،اسی ذمہ کی وجہ سے انسان حیوانات سے ممتاز ہے ،یہ ذمہ غلام کاناقص ہوتا ہے ، ولایت یعنی دوسروں پرقول نافذکرنا ،غلام ولایت کا اہل نہیں ہے ،اسی طرح حلتِ نساء بھی غلام کے لئے ناقص ہے،آزاد چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے ،غلام صرف دوسے کرسکتا ہے، البتہ اخروی شرافت میں غلام اور آزاد برابر ہیں،کیونکہ اس کا مدارتقوی پر ہیں،ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔
حتی ان ذمتہ:-مصنف مذکورہ تینوں چیزوں میں بسبب ِرقیت جو نقصان ہے اس کی وضاحت کررہے ہیں، فرماتے ہیں کہ غلام میں انسان ہونے کے وجہ سے اصل ذمہ تو ثابت ہے، لیکن رقیت کی وجہ سے وہ ذمہ کمزور ہے،پس ذمہ ناقص ہونے کی وجہ سے وہ غلام بذات خود دَیْن کا متحمل نہیں ہوگا ،یعنی اگر وہ غلام غیر ماذون فی التجارۃ ہے تو اس سے فی الحال دین کا مطالبہ نہیں کیاجائے گا، بلکہ آزاد ہونے کے بعد مطالبہ کیاجائے گا ،کیوںکہ غلامی کی وجہ سے ایک دوسرے کے دین کے واجب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے ، لیکن چونکہ میں غلام اصل ذمہ موجود ہے، اس لئے اگر مالیتِ رقبہ اور کسب کو ذمہ کے ساتھ ملادیاگیا تو ذمہ دَیْن کا متحمل ہوجائے گا،مالیت رقبہ اور کسب کو ملانے کا مطلب یہ ہے کہ آقااس کو تصرف کی اجازت دیدے ،اب اگر غلام نے کسی کا مال تلف کیا،یامقروض ہوگیا تو کماکر ضمان ادا کرے گایا پھر دین کے لئے اس کو بیچا جائے گا، توآقا کا تصرف کی اجازت دینا ،اس کے ذمہ کے ساتھ مالیت ِرقبہ اور کسب کو ملانا ہے،اور جب یہ ذمہ کے ساتھ مل گیاتو اب غلام دَیْن کا متحمل ہوجائے گا،کیونکہ نفسِ ذمہ موجود ہے ۔
اسی طرح رقیت کی وجہ سے حلت میں بھی تنصیف ہوگی، لہٰذا غلام دوعورتوں سے نکاح کرسکتا ہے ،اور باندی دوطلاق سے مغلظہ ہوجائے گی،اس کا شوہر چاہے آزاد ہویاغلام ،اور باندی کی عدت بھی آدھی ہوگی یعنی دوحیض ،جب کہ آزاد عورت کی تین حیض ہے،اوراسی طرح قسم یعنی رات گذارنے کی باری یہ بھی نعمت ہے، اس میں بھی منکوحہ باندی کا حق آدھا ہوگا،اور اسی طرح حد نافرمانی کی سزا اور عقوبت ہے،یہ بھی غلام میں آزاد کی بہ نسبت آدھی ہوگی،آزاد میں اللہ کی نعمت کامل ہے تو عقوبت بھی کامل اور غلام میں اللہ کی نعمت ناقص ہے، تو عقوبت اور حد بھی ناقص ہوگی۔
وانتقصت قیمۃ نفسہ:-رقیت کی وجہ سے غلام کی جان کی قیمت بھی آزاد سے کم ہوگی، لہٰذا اگر کسی نے غلام کو خطاً قتل کردیا تو قاتل کے عاقلہ (ذمہ داروں) پر دس ہزار درہم سے کچھ کم درہم واجب ہوںگے، چاہے غلام کی قیمت دس ہزار سے زیادہ ہو، اور اگر غلام کی قیمت دس ہزار سے کم ہے تو قیمت واجب ہوگی۔
دیت کم واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ مالکیت دو قسم کی ہیں(۱)مال میں تصرف اور قبضہ کا مالک ہونا اور عینِ مال کا بھی مالک ہونا، آزاد میں یہ مالکیت کامل ہے، غلام میں ناقص ہے، کیونکہ غلام قبضہ اور تصرف کا تو مالک ہوتا ہے، عینِ مال کا مالک نہیں ہوتا، (۲)غیر ِمال کی مالکیت جیسے نکاح سے ملکِ متعہ کی مالکیت ، یہ مالکیت صرف مذکر کو حاصل