الاان اصل الصلوۃ:-سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مکروہ وقت جب وصف کی وجہ سے فاسد ہے تو نماز فاسد ہونی چاہیے جیسے یوم النحر کا روزہ یوم النحر میں فاسد ہے، حالانکہ آپ نماز کو فاسد نہیں کہتے بلکہ ناقص کہتے ہیں۔
اس کا جواب دے رہے ہیں کہ یوم النحر میں روزہ اور مکروہ وقت میں نماز کے درمیان فرق ہے، کیونکہ وقت نماز کے لئے ظرف ہے اور ظرف کی مظروف کے وجود میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی ہے، بلکہ نماز جو مظروف ہے وہ چند مخصوص اعمال سے ادا ہوجاتی ہے، وقت اس کا صرف مجاور ہے، لہٰذا وقت کا فساد مظروف یعنی نماز کو فاسد نہیں کرے گا__ برخلاف روزے کے کیونکہ روزہ تو وقت کے ساتھ ہی پایا جاتا ہے، وقت روزے کی حقیقت میں داخل ہے، اس لئے کہ وقت روزے کے لئے معیار ہے، لہٰذا یہاں وقت کا فساد روزے کے فساد میں مؤثر ہوگا۔
وھوسببھا:-دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وقت نماز کے لئے ظرف ہے، اور وقت نماز کی حقیقت میں داخل نہیں ہے، اس لئے وقت کے فساد کا اثر نماز میں ظاہر نہ ہوگا تو پھر نماز ناقص بھی نہ ہونی چاہیے بلکہ کامل ہونی چاہیے۔
اس کا جواب دے رہے ہیں کہ وقت اگرچہ ظرف ہے، لیکن نماز کے لئے سبب بھی ہے ، اور سبب کے فساد کا اثر مسبب میں ہوتا ہے مگر چونکہ وقت نماز کے ساتھ مجاور ہے، وصف ِلازم نہیں ہے جیسے یوم النحر کا وقت روزے کے لئے وصف ِلازم ہے، اس لئے نماز کا وقت کے ساتھ اتنا قوی تعلق نہ ہوگا، جتنا یوم النحر کے وقت کا روزہ سے تعلق ہے، جب نماز کا وقت کے ساتھ تعلق ضعیف ہے تو وقت کے فساد کا نماز میں اثر کم ہوگا، لہٰذا نماز فاسد تو نہ ہوگی صرف ناقص ہوگی ۔
اسی لئے فرمایا کہ مکروہ وقت میں واجب کا مل نہ ہوگا بلکہ ناقص ہوگا،اور چونکہ ناقص ہے اس لئے شروع کرنے سے لازم ہوجائے گا، لہٰذا اگر مکروہ وقت میں کسی نے نماز شروع کرکے توڑدی تو اس کی قضا لازم آئے گی __اور روزہ میں چونکہ وقت سے اس کا تعلق قوی ہے، اس لئے کہ روزہ وقت کے ساتھ قائم ہوتا ہے ، روزہ کی تعریف وحقیقت میں وقت داخل ہے، اس لئے روزہ میں وقت ِیوم النحر کے فساد کا اثر زیادہ ہے لہٰذا یوم النحر کا روزہ فاسد ہوگا، اسی لئے اگر یوم النحر میں روزہ کسی نے شروع کردیا تو لازم نہ ہوگا، اور شروع کرکے توڑدیا تو قضا بھی نہیں ہے۔
وَلَا یَلْزَمُ النِّکَاحَ بِغَیْرِ شُھُوْدٍ لِاَنَّہٗ مَنْفِیٌّ بِقَوْلِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَانِکَاحَ اِلَّابِشُھُوْدٍ فَکَانَ نَسْخًاوَلِاَنَّ النِّکَاحَ شُرِعَ لِمِلْکٍ ضَرُوْرِیٍّ لَایَنْفَصِلُ عَنِ الْحِلِّ وَالتَّحْرِیْمُ یُضَادُّہٗ بِخِلَافِ الْبَیْعِ لِاَنَّہٗ شُرِعَ لِمِلْکِ الْعَیْنِ وَالْحِلُّ فِیْہِ تَابِعٌ اَلَاتَرٰی اَنَّہٗ شُرِعَ فِی مَوْضِعِ الْحُرْمَۃِ وَفِیْمَالایَحْتَمِلُ الْحِلَّ اَصْلاً کَالْاَمَۃِ