وہ معذور نہ ہوگا،اب بالغ ہونے کے بعد تامل اور غور وفکر کے لئے کتنی مدت ہوتو اس سلسلہ میں تحدیدوتعیین پر کوئی قطعی دلیل نہیں ہے ،اگر چہ قیاس کا تقاضایہ ہے کہ تین دن کی مہلت دیجائے مگر لوگوں کی عقلوں کے تفاوت کی وجہ سے تین دن کی مہلت صحیح نہیں ہے پس بہتر یہی ہے کہ اس کی تحدید وتعیین اللہ کے سپردکر دی جائے۔
فنن حعل العقل: بہرحال خلاصۂ کلام یہ کہ بابِ عقل میں ماتریدیہ کامذہب بین بین ہے،اور معتزلہ اور اشاعرہ کے مذہب میں افراط وتفریط ہے،معتزلہ نے سارا مدار عقل پرر کھدیا ،اور عقل کو علتِ موجبہ اور علتِ مستقلہ قرار دیا، اور عقل کے خلاف شریعت ہوتو انکار کردیتے ہیں،ان کے پاس اس مذہب کے لئے کوئی قابلِ اعتماد دلیل نہیں ہے ،ان کے بالمقامل اشاعرہ نے عقل کو بالکل ہی لغو قرار دیا ،ان کے پاس بھی کوئی قابلِ اعتماد دلیل نہیں ہے،امام شافعی نے بھی اشاعرہ کا مذہب اختیار کیا ہے کیونکہ وہ اس آدمی کو بالکل معذور قرار دیتے ہیں جس کو دعوت نہ پہنچی ہو،لہٰذا ایسے شخص کو اگر کوئی قتل کرے تو قاتل پر ضمان دیت واجب ہوگا کیونکہ مقتول کے پاس دعوت نہیں پہنچی اگر چہ وہ عاقل بالغ ہے،لہٰذا اس کو کافر نہ کہا جائے گا ،__اور احناف کے نزدیک چونکہ اس کو غور وفکر کا زمانہ مل گیاتو وہ معذور نہیں ہوگا بلکہ اس پر ایمان لاناواجب ہوگا ،لہٰذا اس کو قتل کرنے والے پر ضمان دیت واجب نہ ہوگا ،بہرحال اشاعرہ اورامام شافعی وغیرہ جو عقل کو لغو قرار دیتے ہیں،تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ شریعت میں کہیں بھی یہ بات نہیں ہے کہ عقل اہلیت کے لئے غیر معتبر ہے،پھر عقل کا غیر معتبر ہونا انہوں نے دلالت عقل اور اجتہاد ہی سے ثابت کیا ،تو ایک طرف تو انہوں نے کہا کہ عقل غیر معتبر ہے اور دوسری طرف عقل کا غیر معتبر ہونا عقل واجتہاد ہی سے ثابت کیا تو گویا انہوں نے عقل کو معتبر ماناتو ان کے مذہب مین تناقض ہے ،لہٰذا عقل کو لغو قرار دینا بھی صحیح نہیں ہے پھر عقل کے ساتھ خواہشات نفسانی کا اختلاط رہتا ہے تو عقل کو حجت بنفسہ اور علت ِمستقلہ قرار دینا بھی غلط ہے،لہٰذا اعتدال کی راہ یہی ہوئی کہ عقل مدارِ اہلیت ہے،لہٰذا اب اہلیت کا بیان شروع کررہے ہیں،فرماتے ہیں کہ بیانِ اہلیت کے سلسلہ میں کلام دوقسموں پر منقسم ہے،ایک اہلیت،اور دوسرے وہ امور جو اہلیت پر عارض ہوتے ہیں۔
فَصْلٌ فِیْ بَیَانِ الْاَھْلِیَّۃِ
اَلْاَھْلِیَّۃُ نَوْعَانَ اَھْلِیَّۃُ الْوُجُوْبِ وَاَھْلِیَّۃُ الْاَدَاءِ اَمَّااَھْلِیَّۃُ الْوُُجُوْبِ فَبِنَاءٌ عَلٰی قِیَامِ الذِّمَّۃِ فَاِنَّ الاْدَمِیَّ یُوْلَدُوْلَہٗ ذِمَّۃٌ صَالِحَۃٌ لِلْوُجُوْبِ لَہٗ وَعَلَیْہِ بِاِجْمَاعِ الْفُقَھَاءِ بِنَاءً عَلَی الْعَھْدِ الْمَاضِیْ قَالَ اﷲُ تَعَالٰی وَاِذْاَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ اِلٰی اٰخِرِ الْاٰیَۃِ وَقَبْلَ الْاِنْفِصَالِ ھُوَ جُزْءٌ مِنْ وَجْہٍ فَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ