تو ربا الفضل اور ربا النسیۂ یعنی کمی زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں،لہٰذا ایک صاع جوکودوصاع جوکے بدلہ میں بیچنا حرام ہے، کیوں کہ کم بیشی ہے ، یہ حرام ہے اور ادھار بھی حرام ہے، کیونکہ قدر اور جنس دونوں کا مجموعہ علتِ کاملہ ہے ،اور اگر دووصفوں میں سے ایک وصف پایا جائے یعنی صرف قدر ہویا صرف جنس ہوتو ربا الفضل (کمی بیشی ) حرام نہ ہوگی مگر ربا النسیۂ (ادھار ) حرام ہوگا اگر چہ برابر سرا بر ہو،کیونکہ ادھار میں حقیقۃً اگر چہ ربو اور فضل نہیں ہے، لیکن شبۃالفضل موجود ہے اس طرح کہ نقداورادھار سے ثمن میں تفاوت ہوتا ہے،پس جب ربا النسیہ میں شبہۃ الفضل اور شبۃ الر با موجودہے تو اس کو حرام کرنے کے لئے دونوں وصفوں کا مجموعہ یعنی علتِ کاملہ کی ضرورت نہیں بلکہ ایک وصف سے بھی حرمت ثابت ہوجائے گی ،کیونکہ دووصفوں میں سے ہر ایک مشابہ بالعلۃ ہے جس کو شبۃ العلت کہا گیا، پس ربا الفضل جوحقیقی رباہے اورقوی درجہ کا ربا ہے اس کو ثابت کرنے کے لئے تو قدر وجنس دونوں کا مجموعہ ضروری ہے اور رباالنسیئہ جو شبۃ الربا اور ضعیف درجہ کا ربا ہے وہ شبہۃ العلت یعنی ایک وصف سے بھی ثابت ہوجائے گا۔
والسفر علۃ للرخصۃ:-سفر رخصت کے لئے اسما اور حکماً علت ہے معنیً علت نہیں ہے اسماً تو اس لئے ہے کہ رخصت کی سفر کی طرف نسبت ہوتی ہے ،جیسے کہاجاتا ہے القصر رخصۃ السفر ،اورحکما اس لئے علۃ ہے کہ نفسِ سفر سے رخصت کا ثبوت ہوجاتا ہے ،اور معنیً اس لئے علت نہیں ہے کہ اصل ر خصت سفر کی وجہ سے نہیںہے، بلکہ مشقت کی وجہ سے ہے مگر مشقت کا اندازہ مشکل تھا، اس لئے سفر کو مشقت کے قائم مقام کردیا ،کیونکہ سفر عام طور پر مشقت کا سبب ہوتا ہے ۔
واقامۃ الشی مقام غیرہ:-مصنفؒ کہتے ہیں ایک شی کو اس کے غیر کے قائم مقام کرنا دوطرح سے ہوتا ہے ، ایک تو یہ کہ سبب ِداعی کو مدعو کے قائم مقام کرنا ،جیسے سفر مشقت کا سبب ِداعی ہے، تو اس کو مشقت کے قائم مقام کردیا ،یعنی سبب کو مسبب کا درجہ دیدیا، اسی طرح مرض یہ ازدیاد مرض اور ہلاکت کا سبب داعی ہے، یعنی مرض کی وجہ سے بیماری بڑھنے اور ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے،مگر باطنی امرہے ،مرض سے ہلاکت ہوبھی سکتی ہے ،اور نہیں بھی ہوسکتی تو اس کا اعتبار ساقط کرکے مرض کو ازدیاد اور ہلاکت کے قائم مقام کردیا ،اور مرض کو رخصت کی علت قرار دیا ۔
دوسرے یہ کہ دلیل کو مدلوں کے قائم مقام کرنا ،جیسے شوہر نے بیوی سے کہا ان احببتنی فانت طالق ،اگر تو مجھ سے محبت کرے گی تو تجھے طلاق ،بیوی نے کہا انا احبک میں تجھ سے محبت کرتی ہوں ،تو طلاق واقع ہوجائے گی،حالانکہ عورت کی بات محض خبر اور محبت کی دلیل ہے،کیونکہ حقیقی محبت تو دل میں ہوتی ہے ،اس کا پتہ لگانا مشکل ہے،تو اس کا قول جو دلیل ِمحبت ہے اس کو مدلول یعنی محبت کے قائم مقام کردیا۔