گویا متواتر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس میں عہد ِصحابہ سے آخری ناقل تک روایت کرنے والے اتنی کثیر تعداد میں ہوں جن کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو، دوم عہد ِصحابہ میں تو بڑی تعداد نہ ہو، قرن ثانی اور ثالث میں رواۃ کی بڑی تعداد ہوگئی ہو،__ خبر مشہور کو چونکہ متواتر کی ایک قسم قرار دیا گیا لہٰذا خبر متواتر کی طرح اس سے بھی علمِ یقین حاصل ہوگا، البتہ فرق صرف اتنا ہوگا کہ متواتر سے علم یقینی بدیہی حاصل ہوتا ہے اور خبر مشہور سے علم ِیقینی نظری یعنی استدلالی حاصل ہوتا ہے، ان کے نزدیک خبرِ مشہور کا منکر بھی کافر ہوگا جیسے متواتر کا منکر کافر ہوتا ہے۔
وقال عیسی بن ابان:-عیسیٰ ابن ابان کہتے ہیں کہ خبرِ مشہور متواتر سے کم اور خبر واحد سے اوپر کے درجہ کی ہے، اس لئے اس سے علم ِطمانینت حاصل ہوگا، علم یقینی حاصل نہ ہوگا، لہٰذااس کے منکر کو گمراہ اور فاسق تو کہہ سکتے ہیں مگر کافر نہ کہا جائے گا، اور چونکہ خبر واحد سے بڑھ کر ہے ،اس لئے اس سے کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے لیکن مطلقاً نسخ جائز نہیں کیونکہ متواتر سے کم درجہ کی ہے،__ بعض شوافع کہتے ہیں کہ خبرِ مشہور خبرِ واحد کی طرح مفید ِظن ہے مفید ِیقین نہیں ہے__ مصنفؒ کہتے ہیں صحیح بات ہمارے نزدیک وہی ہے جو عیسیٰ ابن ابان نے کہی ،کیونکہ خبرِ مشہور سلف یعنی قرنِ ثانی وثالث کی شہادت وتصدیق سے باعتبار عمل کے تو یہ متواتر کے درجہ میں ہوگئی،لیکن باعتبار اعتقاد کے متواتر کے درجہ میں نہیں، لہٰذا اس کا منکر کافر نہ ہوگا بلکہ گمراہ ہوگا، فاسق ہوگا۔
وھو نسخ عندنا:-اوپر بتایا گیا کہ خبرِ مشہور سے کتاب اللہ پر زیادتی جائزہے، مطلق نسخ جائز نہیں، اور یہاں مصنف اس زیادتی ہی کو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے نزدیک نسخ ہے، توتضاد ہورہا ہے کیونکہ مصنف کی عبارت سے معلوم ہورہا ہے کہ زیادتی اور نسخ ایک ہی چیز ہے، اور اوپر الگ الگ بتایا گیا ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ زیادتی کبھی تو بیانِ محض ہوتی ہے، اس میں نسخ کا بالکل احتمال نہیں ہوتا جیسے بیانِ تفسیر ،یہ زیادتی متواتر ،مشہور اور خبر واحد سب کے ذریعہ جائز ہے __اور کبھی زیادتی نسخ ِمحض ہوتی ہے ،یہ صرف متواتر سے جائز ہے اور کبھی زیادتی من وجہ بیان اور من وجہ نسخ ہوتی ہے، یہ زیادتی خبر مشہور سے جائز ہے، یہاں مصنف کی عبارت میں یہ تیسری قسم کی زیادتی ہے، جو خبر مشہور سے جائز ہے، اور عیسیٰ بن ابان کے قول میں جو بتایا گیا کہ خبر مشہور سے نسخ جائز نہیں تو اس سے نسخ ِمحض مراد ہے، فلا اشکال۔
وذلک مثل زیادۃ الرجم:-مصنف ؒ خبر مشہور سے کتاب اللہ پر زیادتی کی چند مثالیں ذکر کررہے ہیں۔
پہلی مثال: جیسے اللہ تعالیٰ کے ارشاد الزانیۃ والزانی الخ میں زنا کی سزا سو کوڑے بتائی گئی ہے، یہ آیت عام ہے اس میں محصن (شادی شدہ)اور غیر محصن سب شامل ہیں، لیکن محصن کے حق میں اس پر خبر مشہور