مشروعیت ہے ہی نہیں ،جب مشروعیت یعنی عزیمت نہیں ہے توبیع سلم میں اس شرط کے ساقط ہونے کو مجازًارخصت کہا گیا ،اور چونکہ سلم کے علاوہ بیع کی باقی قسموں میں تعیین ِمبیع کی مشروعیت ہے تو عزیمت بالکلیہ مفقود نہ ہوئی، لہٰذا یہ قسم مجاز ہونے میں انقص ہوگی۔
وکذلک الخمر والمتیۃ :-نوع ِرابع کی دوسری مثال جیسے شراب اور مردار تمام لوگوں پر حرام ہیں،مگر مُکْرَہ اور مضطر کے حق میں ان دونوں کی حرمت ساقط ہوگئی ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے استثناء کیا ہے،’’الامااضطر رتم‘‘تو مکرہ اور مضطر کے حق میں حرمت ساقط ہوگئی ،اور یہ چیزیں حلال ہوگئیں،یہ رخصت ہے،لہٰذا مکرہ اور مضطر کوان دونوں چیزوں سے صبر کرنا جائز نہیں،اگر نہ کھایا پیااور مرگئے تو گنہگار ہوں گے،__تو مکرہ ومضطر کے حق میں یہ دونوں چیزیں حلال ہوگئیں،ان کی حرمت بالکل باقی نہ رہی اس لئے اس پر رخصت کا اطلاق مجازًا ہوگا،کیوں کہ مکرہ اورمضطر کے حق میں عزیمت ہے ہی نہیں یعنی حرمت ہے ہی نہیں ،لیکن چونکہ مکرہ اور مضطر کے علاوہ کے حق میں شراب ومر دار کی حرمت باقی ہے یعنی بعض مادوں میں عزیمت موجود ہے، اس لئے یہ قسم مجاز ہونے میں انقص ہوگی،__امام ابو یوسف اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ مکرہ اور مضطرکے حق میں شراب اورمردار کی حرمت ساقط نہیںہوتی بلکہ مجبوری کی وجہ سے اس پرمؤاخذہ نہ ہوگا__ جیسے اکراہ کی صورت میں کلمہ ٔ کفر کہنے کی حرمت ساقط نہیں ہوتی ،لیکن کہہ لیا تو رخصت ہے ،مؤاخذہ نہ ہوگا ،اس لحاظ سے ان دونوں بزرگوں کے نزدیک یہ مثال رخصت ِمجازیہ کی قسم اول کے قبیل سے ہوگی__ ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا فمن اضطر غیر باغ ولاعادٍفلا اثم علیہ،ان اللہ غفور رحیم،یہاں مغفرت کا لفظ بتارہا ہے کہ حرمت ساقط نہیں ہوئی، حرمت تو باقی ہے لیکن مجبوری ہے تو اللہ معاف کردے گا__ ہماری طرف سے جواب یہ ہے کہ مکرہ ومضطر کو بقدرِ ضرورت کھانے کی اجازت ہے، لیکن عام طور پر ضرورت سے زیادہ ہی آدمی کھالیتا ہے، تو اس زائد مقدار سے مغفرت کا تعلق ہے کہ مقدارِ ضرورت سے جو زائد ہوگا اللہ اس کو معاف کردے گا۔
اس اختلاف کا ثمرہ وہاں ظاہر ہوگا، جب کسی نے قسم کھائی کہ میں حرام نہیں کھاؤنگا، پھر اضطر ارواکراہ کی حالت میں مردار کھالیا،تو امام شافعی اور ابویوسف کے نزدیک حانث ہوجائے گا، کیونکہ حرام کھالیا، ان کے نزدیک حرمت ساقط نہیں ہوتی __ اور ہمارے نزدیک حانث نہ ہوگا کیونکہ اضطر ارواکراہ کی حالت میں ہمارے نزدیک حرمت ساقط ہوجاتی ہے، تو اس نے حرام چیز نہیں کھائی ہے۔
وکذلک الرجل:-نوع ِرابع کی تیسری مثال جیسے وضو میں پاؤں کا دھونا فرض ہے سب کے لئے، البتہ موزے پہنے ہوں تو مدت ِمسح میں غسل ِرجلین ساقط ہوجاتا ہے، کیونکہ موزے کے سبب پیروں میں حدث سرایت نہیں