ہیں،__ اور ان کے علاوہ جو نظر وفکر اور فقہ میں مشہور ہوگئے جیسے ابی بن کعب ، ابودرداء ان کابھی فقہائے صحابہ میں شمار ہے، یہ حضرات اگر خبرِ واحد روایت کریں ، اور ان کی خبر واحد قیاس کے خلاف ہوتو قیاس کوترک کردیا جائے گا ۔
امام مالک فرماتے ہیں کہ مطلق خبرِ واحد جب قیاس کے خلاف ہوتو خبرِ واحد کو چھوڑدیا جائے گا، اور قیاس پر عمل کیا جائے گا__ جیسے مرفوع حدیث ہے من غَسَّلَ الْمیت فلیغتسل ومن حملہ فلیتوضأ__ جس نے میت کو غسل دیا وہ خود بھی غسل کرے اور جس نے میت کو اٹھایا وہ وضو کرے - یہ حدیث قیاس کے خلاف ہے، کیونکہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ میت کو غسل دینے سے غسل واجب نہ ہو، اور نہ جنازہ اٹھانے سے وضو واجب ہوگا، کیونکہ اس میں حدثِ اکبر یا حدثِ اصغر نہیں پایا جارہا ہے جو غسل یا وضو کو واجب کرے__ اس جگہ سب کے نزدیک قیاس پر عمل ہے،__ امام مالک کہتے ہیں کہ دیکھو خبر واحد قیاس کے خلاف تھی، اس لئے خبرِ واحد کو چھوڑدیا __ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہاں خبرِ واحد کو اس لئے چھوڑدیا گیا کہ اس کے راوی ابوہریرہ معروف بالفقہ والاجتہاد نہیں ہے ایسا نہیں ہے کہ مطلق خبر واحد کو جو مخالف للقیاس ہو ، اس کو چھوڑ دیں گے ، بلکہ اگر راوی معروف بالفقہ والا جتہاد ہوتو اس کی خبر واحد حجت گی، اگر چہ قیاس کے خلاف ہو۔
امام مالکؒ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ خبرِ واحد میں کئی شبہات ہیں، یہ بھی احتمال ہے کہ راوی کو سہو ہوگیا ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ راوی نے کذب بیانی کی ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ حدیث سرے سے ثابت ہی نہ ہو__ اور قیاس میں صرف ایک ہی شبہ ہے کہ ہوسکتا ہے مجتہد نے خطاکی ہو، تو جس میں زیادہ شبہات ہوں اس کو مراد لینے کے بجائے جس میں ایک شبہ ہوا س کو مراد لینا اولی ہے، لہٰذا خبر واحد کے مقابلہ میں قیاس کو مراد لینا اولی ہوگا،__ ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہوگا کہ خبر واحد کی اصل میں کوئی شبہ نہیں ہے، کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے،البتہ اس خبرکے طریق ِوصول میں یعنی اس خبر کے ہم تک پہنچنے میں شبہ ہے،اور قیاس کی تو اصل ہی شبہ واحتمال پر ہے، کیونکہ مجتہد نے جس وصف کو علت بنایا ہے، اس میں ہی شبہ واحتمال ہے کہ یہ وصف علت ہے یا اور کوئی وصف علت ہے، لہٰذا جس کی اصل (بنیاد)محتمل ہو ،اس کے مقابلہ میں جس کی اصل (بنیاد) یقینی ہو وہ زیادہ قوی ہے پس خبرِ واحد قیاس سے اولی ہوگا۔
وان کان الراوی:-اور دوسری قسم یعنی اگر راوی عدالت، حفظ اور ضبط میں معروف ہو، فقہ میں معروف نہ ہو جیسے حضرت ابوہریرہ ،حضرت انس بن مالک تو ایسے راوی کی خبرِ واحد اگر قیاس کے موافق ہوتو اس پر عمل کیا جائے گا، ظاہر ہے کہ اس صورت میں قیاس پر بھی عمل ہوگا، اور اگر خبرِ واحد قیاس کے خلاف ہوتو خبر کو ضرورت کی وجہ سے چھوڑدیا جائے گا اور قیاس پر عمل کیا جائے گا، عبارت میں انسدادباب الرای ضرورۃ کا عطف ِتفسیری ہے،