فَصْلٌ فِی الْاُمُوْرِِِِ الْمُعْتَرِِضَۃِ عَلٰی ٌ الاھلیۃ
اَلْعَوَارِضُ نَوْعَانِ سَمَاوِیٌ وَمُکْتَسَبٌ اَمَّاالسَّمَاوِیُّ فَھُوَ الصِّغْرُ وَالْجُنُوْنُ وَالعَتَہُ وَالنِّسْیانُ وَالنَّوْمُ وَالْاِغْمَاءُ وَالرِّقُّ وَالْمَرَضُ وَالْحَیْضُ وَالنِّفَاسُ وَالْمَوْتُ وَاَمَّا الْمَکْتَسَبُ فَنَوْعَانِ مِنْہُ وَمِنْ غَیْرِہٖ اَمَّا الَّذِیْ مِنْہُ فَالْجَھْلُ وَالسَّفَہُ وَالسُّکْرُ وَالْھَزْلُ وََالْخَطَأُ وَالسَّفَرُ وَاَمَّاالَّذِیْ مِنْ غَیْرِہٖ فَالْاِکْرَاہُ بِمَافِیْہِ اِلْجَاءٌ وَبِمَا لَیْسَ فِیْہِ اِلْجَاءٌ وَاَمَّا الْجُنُوْنُ فَاِنَّہٗ یُوْجِبُ الْحَجْرَ عَنِ الْاَقْوَالِ وَیَسْقُطُ بِہٖ مَاکَانَ ضَرَرًا یَحْتَمِلُ السُّقُوْطَ وَاِذَا اِمْتَدَّ فَصَارَ لُزُوْمُ الْاَدَاءِ یُؤَدِّیْ اِلَی الْحَرَجِ فَیَبْطُلُ الْقَوْلُ بِالْاَدَاءِ وَیَنْعَدِمُ الْوُجُوْبُ اَیْضًا لِاِنْعِدَامِہٖ وَحَدُّ الْاِمْتِدَادِفِی الصَّوْمِ ان یَسْتَوْعِبَ الشَّھْرَ وَفی الصَّلَواتِ ان یَزِیْدَ علی یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ وفی الزَّکَوۃِ اَنْ یَسْتَوْعِبَ الْحَوْلَ عِنْدَ مُحَمَّدٍؒ وَاََقَامَ اَبُوْیُوْسُفَؒ اَکْثَرَ الْحَوِْل مَقَامِ کُلِّہٖ تَیْسِیْرًاوَمَاکَانَ حَسَنًا لَایَحْتَمِلُ الْغَیْرَ اَوْقَبِیْحًا لَایَحْتَمِلُ الْعَفْوَ فَثَابِتٌ فِیْ حَقِّہٖ حَتّٰی یَثْبُتَ اَیْمَانُہٗ وَرِدَّتُہٗ تَبْعًالَابَوَیْہِ۔
ترجمہ :-یہ فصل ان امور کے بیان میں ہے جو اہلیت پر عارض ہوتے ہیں،عوارض دوقسم کے ہیں ،سماوی اور کسبی ، بہرحال سماوی پس وہ صغر ،جنون ،عتہ،(فتور عقل)نسیان ،نیند ،ہوشی،غلامی ،بیماری ،حیض ونفاس،اور موت ہے،اور بہرحال کسبی اس کی دوقسمیں ہیں، ایک بندہ کی طرف سے اور دوسرے اس کے غیر کی طرف سے،بہرحال وہ جوبندے کی طرف سے ہیں پس وہ جہل ہے اور سفہ(خفت ِ عقل) ہے، اور سکر،ہزل ،خطاء اور سفر ہے،اور بہرحال وہ جو اس کے غیرکی طرف سے ہیں تو وہ اکراہ ہے ایسی چیز کے ساتھ جس میں الجاء ہو،اور ایسی چیز کے ساتھ جس میں الجاء نہ ہو،اور بہرحال جنون پس وہ اقوال سے حجر کو واجب کرتا ہے ،اور جنون کی وجہ سے وہ ضرر ساقط ہوجاتاہے جو سقوط کا احتمال رکھتا ہے،اور جب جنون ممتد ہوجائے تو اداء کا لزوم حرج تک پہنچا دے گا ،تو لزومِ اداء کا قول باطل ہوجائے گا ،اور اداء کے معدوم ہونے سے نفسِ وجوب بھی معدوم ہوجائے گا ،اور روزہ میں امتداد کی حدیہ ہے کہ جنون مہینہ کو گھیر لے اور نمازوں میں یہ ہے کہ جنون ایک دن رات سے بڑھ جائے،اور زکوۃ میں یہ ہے کہ جنون سال کو گھیرلے امام محمدؒ کے نزدیک،اور امام ابویوسفؒ نے آسانی کے لئے اکثر حول کو کل کے قائم مقام کیا ہے ،اور جو فعل ایسا حسن ہو جو غیر کا احتمال نہ رکھے یا ایسا قبیح ہوجو عفو کا احتمال نہ رکھے تو وہ مجنون کے حق میں ثابت ہوگا ، یہاں تک کہ اس کا