اعتبار کرتے ہیں، یعنی جس خبر کے راوی زیادہ ہوں وہ راجح ہوگی اور جس خبر کے راوی کم ہوں وہ مرجوح ہوگی، کیونکہ جس خبر کے راوی زیادہ ہیں وہ خبر قوی ہوگی، اور آدمی کا دل بھی اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
اسی طرح ذکورت (مردہونا) اور حریت (آزاد ہونا) کو بھی وجہِ ترجیح بناتے ہیں ،جب کہ یہ عدد میں ہونہ کہ افراد میں، لہٰذا اگر دو متعارض خبروں میں ایک خبر کے راوی دو مرد ہوں، اور ایک کے راوی دو عورتیں ہوں تو پہلی خبر کو ترجیح ہوگی، ایسے ہی ایک خبر کے راوی دو آزاد ہوں اور ایک کے راوی دوغلام ہوں تو اول کو ترجیح ہوگی ،لیکن ایک مرد کی خبر ایک عورت کی خبر پرراجح نہ ہوگی،اسی طرح ایک آزاد کی خبر ایک غلام کی خبر پر راجح نہ ہوگی کیونکہ یہاں عدد نہیں ہے بلکہ فرد ہے، اور ذکورت وحریت سے عدد میں تو حجت تام ہوتی ہے، افراد میں حجت تام نہیں ہوتی ہے، کیونکہ ایک نصاب خبر نہیں، خبر کا نصاب کم ازکم دو ہے۔
بعض حضرات سے مراد عبد اللہ جرجانی، شیخ ابوالحسن کرخی اور بعض اصحابِ شافعی ہیں، مصنف کہتے ہیں کہ یہ حضرات جو کثرتِ رواۃ اور ذکورت وحریت کو وجہِ ترجیح بناتے ہیں، ان کا استدلال پانی کے مسائل سے ہے، امام محمدؒ نے مبسوط کے کتاب الاستحسان میں ذکر کیا ہے کہ ایک آدمی نے پانی کی طہارت اور کھانے کی حلت کی خبر دی اور دو آدمیوں نے پانی کی ناپاکی اور کھانے کی حرمت کی خبر دی تو دو آدمیوں کی خبر کو ترجیح ہوگی__ اسی طرح دو آزاد مردوں نے طہارت وحلت کی گواہی دی اور دو غلاموں نے نجاست وحرمت کی گواہی دی تو حرین کی خبر کوعبدین کی خبر پر ترجیح ہوگی __اسی طرح اگر دو مردوں نے طہارت وحلت کی خبر دی اور دو عورتوں نے نجاست وحرمت کی خبر دی تو مردوں کی خبر کو ترجیح ہوگی،__ تو جب پانی اور کھانے کے مسائل میں کثرتِ رواۃ اور ذکورت وحریت سے ترجیح ہوتی ہے تو اخبار واحادیث میں بھی اس چیزوں کا اعتبار ہوگا، مصنفؒ فرماتے ہیں کہ مذکورہ چیزوں کو ترجیح کی بنیاد بنانا سلف کے اجماع سے متروک ہے، اس لئے کہ سلف نے ضبط واتقان ، اور عدالت وثقہ ہونے کی زیادتی وغیرہ کو تو وجہِ ترجیح بنایا ہے، کثرت ِرواۃ اور ذکورت وحریت وغیرہ کو وجہِ ترجیح نہیں بنایا ہے۔
فَصْلٌ وَھٰذِہٖ الْحُجَجُ بِجُمْلَتِھَا تَحْتَمِلُ الْبَیَانَ وَھٰذَا
بَابُ الْبَیَانِ
وَھُوَ عَلٰی خَمْسَۃِ اَوْجُہٍ بَیَانُ تَقْرِیْرٍ وَبَیَانُ تَفْسِیْرِ وَبَیَانُ تَغْیِیْرٍ وَبَیَانُ تَبْدِیْلٍ وَبَیَانُ ضَرُوْرُۃٍ اَمَّابَیَانُ التَّقْرِیْرِ فَھُوَ تَوْکِیْدُ الْکَلَامِ بِمَایَقْطَعُ اِحْتَمَالَ الْمَجَازِ اَوْ اَلْخُصُوْصِ فَیَصِحُّ مَوْصُوْلًا وَمَفْصُوْلًا بِالْاِتِّفَاقِ وَکَذٰلِکَ بَیَانُ التَّفْسِیْرِ وَھُوَ