سے ہوجاتی ہے ، اس کے لئے کوئی الگ عمل کی ضرورت نہیں ہے۔
وحکم ھذین النوعین:-حسن لغیرہ کی دونوں قسموں کا حکم بھی ایک ہی ہے، جب تک وہ غیر جس کی وجہ سے ماموربہ میں حسن آیا ہے وہ باقی رہے گا تو ماموربہ بھی واجب رہے گا اور جب وہ غیر ساقط ہوجائے گا تو ماموربہ بھی ساقط ہوجائے گا، لہٰذا نماز باقی رہے گی تو وضو باقی رہے گا، جمعہ باقی رہے گا تو سعی باقی رہے گی، اور نماز اور جمعہ ساقط ہوجائے گا تو وضو اور سعی بھی ساقط ہوجائے گی، اسی طرح جب تک حق ِمسلم باقی ہے تو صلوۃ علی ا لمیت بھی باقی رہے گی__ اور جب تک اعلاء کلمۃ اللہ باقی رہے گا تو جہاد بھی باقی رہے گا__ اور جب تک معاصی اور موجباتِ حد باقی رہیں گے، حد قائم کرنے کا حکم بھی باقی رہے گا، اور یہ غیر جس کی وجہ سے مامور بہ میں حسن آیا ہے ساقط ہوجائے گا تو مامور بہ بھی ساقط ہوجائے گا۔
فَصْلٌ فِی النَّھْیِ وَھُوَفِی صِفَۃِ الْقُبْحِ یَنْقَسِمُ انْقسَامَ الْاَمْرِ فِی صِفَۃِالْحُسْنِ مَاقَبُحَ لِعَیْنِہٖ وَضْعًاکَالْکُفْرِ وَالْعَبْثِ وَمَا اِلْتَحَقَ بِہٖ بِوَاسِطَۃِ عَدْمِ الْاَھْلِیَّۃِ وَالْمَحَلِّیَّۃِ شَرْعًا کَصَلٰوۃِ الْمُحْدِثِ وَبَیْعِ الْحُّرِ وَالْمَضَامِیْنِ وَالْمَلَا قِیْحِ وَحُکْمُ النَّھْیِ فِیْھِمَا بَیَانُ اَنَّہٗ غَیْرُمَشْرُوْعٍ اَصْلًا۔
ترجمہ:-یہ فصل نہی کے بیان میں ہے، نہی قبح کی صفت میں منقسم ہوتی ہے امر کے حسن کی صفت میں منقسم ہونے کی طرح ، ایک وہ ہے جو قبیح لعینہ ہو باعتبار وضع کے جیسے کفر اور عبث اور دوسری وہ ہے جو ملحق ہے قسم اول کے ساتھ شرعًا اہلیت اور محلیت کے نہ ہونے کے واسطہ سے، جیسے محدث کی نماز اور آزاد کی بیع اور مضامین اور ملاقیح کی بیع ، اور ان دونوں قسموں میں نہی کا حکم اس بات کو بیان کرنا ہے کہ یہ بالکل مشروع نہیں ہے۔
------------------------------
تشریح:- اللہ تعالیٰ آمر اور ناہی ہے اور اللہ تعالی حکیم ہے، اس لئے اس کے امر کرنے پر جس طرح مامور بہ میں حسن ہوتا ہے ایسے ہی اس کی نہی سے منہی عنہ میں قبح لازمی ہے۔
مصنفؒ نے ماقبل میں حسن کے لحاظ سے امر کی تقسیم کی ہے،اور یہاں قبح کے لحاظ سے نہی کی تقسیم بیان کررہے ہیں۔
قبح کے لحاظ سے منہی عنہ کی دو قسمیں ہیں، (۱)قبیح لعینہ (۲) قبیح لغیرہ ، پھر قبیح لعینہ کی دو قسمیں ہیں (۱)قبیح لعینہ وضعی (۲)قبیح لعینہ شرعی۔
قبیح لعینہ وضعی وہ منہی عنہ ہے جس کی ذات میں قباحت ہو، اس کی وضع میں قبح ہو ،بغیر شرع کے عقل ہی سے اس