ہے__ حَسَنْ بغیر کسی تیسرے معنی کے (یعنی بغیر کسی زائد واسطہ کے) ان واسطوں کے ثابت ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی کے خلق سے اور منسوب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی کی طرف۔
------------------------------
تشریح:-یہ فصل ہے مامور بہ کے حسن کی صفت کے بیان میں ،آمر اللہ تعالی ہیں، اور ناہی بھی اللہ تعالی ہیں ، اور اللہ حکیم ہے، اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ جس چیز کا بندوں کو امر کریں گے یقینا اس مامور بہ میں حسن ہوگا اور جس چیز سے نہی کریں گے اس منہی عنہ میں قبح ہوگا۔
مصنفؒ مامور بہ کی حسن کے لحاظ سے تقسیم کررہے ہیں، حسن کے لحاظ سے مامور بہ کی دوقسمیں ہیں، (۱)ماموربہ حَسَنْ لعینہ (۲)ماموربہ حَسَنْ لغیرہ، حَسَنْ لعینہ اس کو کہتے ہیں کہ حُسْن مامور بہ کی ذات میں ہو، حَسَنْ لغیرہ اس کو کہتے ہیںکہ مامور بہ میں حسن ذاتی نہ ہو غیر کی وجہ سے آیا ہو۔
پھر مامور بہ حسن لعینہ کی بھی دو قسمیں ہیں، (۱)حسن لعینہ بالذات (۲) حسن لعینہ بالواسطہ ۔
حسن لعینہ بالذات اس کو کہتے ہیںکہ جس وصف اور معنی کی وجہ سے مامور بہ میں حسن پیداہواہے وہ وصف فی حدذاتہ حسن ہو بغیر کسی واسطہ کے، اس کی وضع میں ہی حسن ہو۔
اور حسن لعینہ بالواسطہ اس کو کہتے ہیں کہ جس وصف ومعنی کی وجہ سے مامور بہ میں حسن پیداہوا ہے وہ معنی اپنی وضع میں حَسَن نہیں ہے بلکہ اس میںحُسْن کسی واسطہ سے آیا ہے لیکن یہ واسطہ بھی کوئی بہت دور کی چیز نہیں ہے، بلکہ نہ ہونے کے درجہ میں ہے ،اس لئے یہ قسم ثانی قسم اول کے ساتھ ہی ملحق ہے۔
قسم اول یعنی حسن لعینہ بالذات کی مثال جیسے نماز کیونکہ نماز میں جس معنی اور وصف کی وجہ سے حسن آیاہے وہ معنی ایساہے کہ اس کی ذات ووضع میں ہی حسن ہے، اس لئے کہ نماز اقوال یعنی ثنا، تسبیح وغیرہ اور افعال یعنی رکوع ، سجدہ وغیرہ کا نام ہے،تو نماز میں ان افعال واقوال سے حسن آیا ہے اور یہ افعال واقوال ایسے ہیں کہ ان کی وضع میں حسن ہیں کیونکہ ان کا مقصد تعظیم باری تعالی ہے، اور تعظیم فی ذاتہ حسن ہے، لہٰذا نماز حسن لعینہ بالذات ہوئی، اسی قسم اول میں ایمان بھی داخل ہے، بلکہ ایمان تو قسم اول کا اعلی درجہ ہے، کیونکہ ایمان تو کسی بھی وقت سقوط کو قبول نہیں کرتاہے، اور نماز تو بعض اوقات ساقط بھی ہوجاتی ہے، اسی لئے بعض حضرات نے اس قسم اول کی تقسیم کی ہے (۱)مالایقبل السقوط مثل الایمان (۲) مایقبل السقوط مثل الصلوۃ۔
الاان یکون:- تعظیم فی ذاتہ حسن ہے مگر یہ کہ غیر حالت میں یا غیرِ وقت میں ہو، جیسے بجائے طہارت کے حالت ِ جنابت میں ہو یا غیر ِ وقت میں ہو جیسے اوقاتِ مکروہ میں ہوتوحَسَنْ نہ ہوگی بلکہ قبیح اور مکروہ ہوگی۔
وماالتحق بوابسطۃ:-قسم اول بیان ہوگئی، قسم ثانی وہ ہے جوواسطہ کی وجہ سے قسم اول کے ساتھ ملحق