خیار شرط پر قیاس کیا ہے تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک تین دن کی مدت تک اجازت کا وقت رہے گا،اس کے بعد اجازت نہ ہوگی،بیع ختم ہوجائے گی،کیونکہ امام صاحب ؒ کے نزدیک خیارِشرط کی مدت تین دن ہیں ،اور صاحبین کے نزدیک خیار کی مدت تین دن نہیں ہیں بلکہ اس کے بعد بھی خیار رہتا ہے، لہٰذا یہاں بھی وہ دونوں تین دن کے بعد بھی بیع کو جائز قرار دے سکتے ہیں۔
ولو تواضعا علی البیع:-مصنف نے ماقبل میں اصل ِبیع میں ہزل کو بیان کیااب مقدارثمن میں ہزل اور جنس ثمن میں ہزل کو بیان کررہے ہیں ،فرماتے ہیں کہ اگر اصلِ بیع میں تو ہزل نہ ہو، مگر مقدارِ ثمن میں ہزل ہو،یعنی دونوں نے طے کیا کہ اصل ثمن تو ایک ہزارہوگامگر ہم لوگوں کے سامنے دوہزار ظاہرکریں گے یہ مقدار ثمن میں ہزل ہوا ، جنس ثمن میں ہزل یہ ہے کہ دونوں نے طے کیا کہ بیع تو کرنی ہے ، اور بیع میں اصل ثمن ایک ہزار رہے گامگر لوگوں کے سامنے ہم مذاقاً ثمن ایک سودینار ظاہر کریں گے ،تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک دونوں صورتون میں ہزل باطل اور تسمیہ صحیح ہوگا،لہٰذادوہزار بولنے کی صورت میں دوہزار ثمن ہوگا،سودینار بولنے کی صورت میں سودینار ثمن ہوگا، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ پہلی صورت میں ایک ہزار درہم ثمن ہوگا،اور دوسری صورت میں سودینار ثمن ہوگا،جیسے امام صاحب کہتے ہیں ،کیونکہ پہلی صورت میں اتحاد جنس ہے، اس لئے ان دونوں کی جِدّ میں موافقت (اس طور پر کہ دونوں بیع کے منعقد ہونے کو چاہتے ہیں)اور ہزل پر موافقت (اس طور پر کہ اصل ثمن تو ایک ہزار ہے،لیکن مذاقاً دوہزار ہم ذکرکریں گے)جمع ہوسکتی ہے،لہٰذا بیع میں اگرچہ دوہزار کا ذکر کیاہے لیکن ایک ہزار درھم پر جو دوہزار کے ضمن میں ہے بیع منعقد ہوجائے گی،اس لئے کہ دونوں کے مذاق پر اتفاق کی وجہ سے بائع اس کا مطالبہ بھی نہیں کرے گا،اور بندوں کی طرف سے جس شرط کا مطالبہ نہ کیا جائے وہ شرط عقد کو فاسد نہیں کرتی ہے ،__اور پہلی صورت میں چونکہ ثمن میں اتحاد جنس نہیں ہے،اس لئے دونوں کی جِدّ پر موافقت کا تقاضا یہ ہے کہ بیع صحیح ہو،اور ہزل پر موافقت(یعنی دونوں کا اس پر متفق ہونا کہ اصل ثمن تو ایک ہزارہے،مگر ہم مذاقاً سودینار کہیں گے)کا تقاضا یہ ہے کہ عقد ِ بیع ثمن سے خالی ہو ،کیونکہ عقدِ بیع میں سودینار کا ذکر کیاہے،مگر یہ ہزل کی وجہ سے ثمن نہیں ہے،اور وہ ایک ہزارجوان دونوں نے واقعی ثمن مانا ہے اس کا عقد میں ذکر نہیںہے،اس لئے یہ ایک ہزار بھی ثمن نہیں بن سکتا،اور ہزل کی وجہ سے سودینار بھی ثمن نہیں بن سکتے ،تو عقد ثمن سے خالی ہوگیا اور یہ مفسد ِ بیع ہے تو دونوں موافقتوں میں تطبیق نہیں سکتی ہے تو ایک کو چھوڑنا پڑے گا،پس عقد ِ بیع کو صحیح کرنے کے لیے ہم نے موافقت فی الجد کو ترجیح دی،اور موافقت فی الہزل کو چھوڑدیاتو ہزلاً جو سو دینار کہا ہے اس میں ہزل کا اعتبار نہ ہوگا، لہٰذا سو دینار ثمن ہوجائے گا۔
و انا تقول :-امام صاحب کی طرف سے اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ دوسری صورت میں جیسے موافقت فی