اشہاد کے بعد ہزل اور مذاق میں شفعہ سپرد کردیا یعنی حقِ شفعہ سے دستبردار ہوگیا تو ہزل کی وجہ سے تسلیم ِ شفعہ یعنی حقِ شفعہ سے دستبردار ہونا باطل ہوجائے گا، اور حقِ شفعہ بدستور باقی رہے گا، اس لئے کہ تسلیم ِشفعہ بیع کے معنی میں ہے، اور بیع یعنی تسلیم ِمبیع اور تسلیم ِ ثمن خیارِ شرط کی وجہ سے باطل ہیں کیوں کہ خیار رضا بالحکم کے لیے مانع ہے،لہٰذا جب تک خیار رہے گا تسلیم ِ بیع اور تسلیم ثمن باطل رہے گا، لہٰذا تسلیم ِشفعہ جو بیع کے معنی میں ہے وہ بھی خیار کی وجہ سے باطل ہوجائے گا، اور ہزل خیارِ شرط کے درجہ میں ہے، پس تسلیم ِشفعہ جیسے خیار ِشرط سے باطل ہوجاتا ہے ایسے ہی ہزل سے بھی باطل ہوجائے گا __ اور اسی طرح اگر مقروض کو ہزل ومذاق کے طریقہ پر قرضہ سے بری کردیا تو یہ بری کرنا بھی باطل ہوگا اور قرض بدستور باقی رہے گا۔
واما الکافراذا تکلم:-مصنف ہزل کی تیسری قسم اعتقادیات کو بیان کررہے ہیں ، فرماتے ہیں کہ اگر ازراہِ مذاق کسی کافر نے کلمہ ٔاسلام کاتکلم کیا، اور اس نے اپنے دین سے برأت ظاہر کی تو واجب ہے کہ اس کے ایمان کا حکم جاری کیا جائے یعنی احکام ِدنیا میں وہ مسلمان شمار ہوگا، جیسے کسی کافر کو جبرواکراہ کے طریقہ پر کلمۂ اسلام کہلوایا گیا ہو ،تو وہ مسلمان شمار ہوتا ہے، اس لئے کہ ایمان لانا وہ انشاء ہے جس میں رد اور تراخی کا احتمال نہیں ہے، کیونکہ اسلام کا رد کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے، ایسے ہی اسلام کا حکم اسلام سے مؤخر نہیں ہوتا ہے، بلکہ اسلام کاحکم اسلام پر فی الحال مرتب ہوتا ہے، پس اسلام طلاق اور عتاق کی طرح ہوگیا، جس میں ہزل مؤثر نہیں ہوتاہے، یعنی ہزل کا اعتبار نہ ہوگا ، اسی طرح نعوذ باللہ کوئی مسلمان ازراہِ مذاق کلمۂ کفر زبان سے بولے ،تو ہزل کا اعتبار نہ ہوگا اور وہ مرتد قرار دیا جائے گا۔
واما السفہ فلایخل:-عوارض مکتسبہ میں سے چوتھا عارض سَفَہ ہے، سفہ اور سفاہت لغت میں خفت اور بیوقوفی کو کہتے ہیں، اور اصطلاحِ شرع میں عقل وشریعت کے خلاف عمل کرنے اور بیجا اپنا مال اڑانے کو کہتے ہیں ، تو سفیہ باوجود عقل کے خلاف ِعقل وشریعت عمل کرتا ہے، اس لئے سفہ عوارض مکتسبہ میں سے ہوا۔
سفہ اہلیت ِخطاب میں خلل انداز نہیں ہے، کیونکہ عقل وقُوٰی سلامت ہیں ،تو سفہ احکام ِشرع میں کسی کے لئے مانع نہ ہوگا بلکہ سفیہ شریعت کا مکلف ومخاطب رہے گا، امام ابوحنیفہ ؒکے نزدیک سفیہ کسی بھی تصرف سے محجور نہیں ہوتاہے، چاہے وہ تصرف ایسا ہو جو ہزل ومذاق سے باطل نہیں ہوتا ہے، جیسے نکاح، عتاق وغیرہ یا وہ تصرف ایسا ہو جو مذاق سے باطل ہوجاتا ہے، جیسے بیع، اجارہ، کیونکہ عاقل بالغ کو حکماً تصرف سے روک دینا شریعت میں ثابت نہیں ہے، اور صاحبین کے نزدیک بھی ان تصرفات میں یہی حکم ہے جو مذاق سے باطل نہیں ہوتے ہیں، جیسے نکاح عتاق وغیرہ پس سفیہ کا نکاح کرنا، آزاد کرنا، وغیرہ صحیح ہوگا، البتہ ان تصرفات میں جو مذاق سے باطل ہوجاتے ہیں، ان میں