عمرو‘‘کہہ کر اس کی تلافی کردی، وہم کو دور کردیا،لکن اگر مخففہ ہوتو عاطفہ ہوگا،اور استدراک کے لئے ہوگا اور مشددہ ہے تو مُشَبّہ بالفعل ہوگا، جو استدراک میں عاطفہ کا شریک ہے۔
مصنفؒ نے نفی کے بعد استدراک کے لئے کہا ،تو یہ اس صورت میں ہے جب کہ عطف مفرد علی المفرد ہو جیسے اوپر مثال گذری ،اور اگر جملہ کا عطف جملہ پر ہوتو نفی اور اثبات دونوں میں استدراک ہوسکتا ہے۔
غیر ان العطف بہ :-لکن کے ذریعہ عطف کی صورت میں لکن کے نفی کے بعد استدراک کے لئے ہونے کی دو شرطیں ہیں،(۱)جس کلام میں لکن واقع ہووہ کلام متصل ہو یعنی لکن کا مابعد ما قبل سے ملا ہوا ہو(۲)نفی اور اثبات دونوں کا محل الگ الگ ہو،یعنی بعینہ ایک ہی چیز کی نفی اور اثبات نہ ہورہا ہے،تاکہ دونوں جمع ہوسکیں۔
جیسے کسی کے پاس غلام ہے اور یہ اقرار کرتا ہے کہ یہ غلام زید کا ہے،تو زید مقرلہ کہتا ہے ما کان لی قط لکن لفلان آخر کہ یہ غلام میرا نہیں ہے ،لکن وہ فلاں کا ہے،تو یہ غلام فلاں کا ہوگا، نہ کہ مقرلہ کا،کیونکہ یہاں دونوں شرطیں موجود ہیں،کہ لکن نفی کے بعدہے ،اور لکن کا مابعداس کے ماقبل سے ملا ہوا بھی ہے ،اور نفی واثبات کا محل بھی الگ الگ ہے ،کہ نفی تو متکلم کی طرف راجع ہے،اور اثبات فلان آخر کی طرف راجع ہے،لہٰذا عطف درست ہوگا،پس غلام کا مستحق فلان آخر ہوگا نہ متکلم یعنی مقرلہ۔
اور شرط مفقود ہونے کی مثال مصنفؒ نے بیان کی کہ اگرفضولی نے کسی عورت کا نکاح سودرھم میں کردیا،عورت کو جب خبر پہنچی تو اس نے کہا ’’لااجیزہٗ‘‘میں اس نکاح کو جائز نہیں کرتی ولکن اجیزہ بمائۃ وخمسین ‘‘لیکن ڈیڑھ سودرھم میں جائز کرتی ہوں‘‘تو عورت کے اس قول سے عقدِ نکاح فسخ ہوجائے گا،کیونکہ عورت نے جس فعل کی نفی کی ہے اسی فعل کا اثبات کیا ہے،یعنی نکاح کی نفی کی ہے اور نکاح ہی کا اثبات کیا ہے،تو دوسری شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے کلام مستأنف اور مستقل ہوگا،اور جب مستقل کلام ہوا تو یہ عورت کی طرف سے ایجاب ہوگا،اور ایجاب بغیر قبول کے معتبر نہیں ہے،لہٰذا نکاح منعقد نہ ہوگا،اور فضولی کا کیا ہوانکاح لااجیزہ سے فسخ ہوگیا۔
طالب علمانہ سوال: ہوتا ہے کہ عورت کے کلام میں نفی اور اثبات ایک ہی سے متعلق نہیں ہے بلکہ نفی سو درہم کے ساتھ مقید ہے اور اثبات ڈیڑھ سودرھم کے ساتھ مقید ہے،تو نفی اور اثبات کا محل الگ الگ ہوگیا ،لہٰذا اتساق پایا گیا تو عطف درست ہونا چاہیے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ سو اورسو ڈیڑھ سو مہر ہے ،اور مہر نکاح میں تابع ہوتا ہے،اس کا اعتبار نہیں ہے،اسی لئے اگر نکاح میں مہر کا ذکر نہ ہو،یا اس کی نفی ہوتو بھی نکاح ہوجاتا ہے،لہٰذا عورت کے کلام میں نکاح ہی کی نفی اور اثبات ہے،تو اتساق کی شرط مفقو دہے ،لہٰذا عطف درست نہ ہوگا__ ہاں اگرعورت اس طرح کہے ’’لااجیزہ بمائۃ ولکن