ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ اس میں تاویل وتخصیص کا احتمال ہے یا نہیں ،اگر تخصیص وتاویل کا احتمال ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں ، کلام اس معنی کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے یا نہیں ،اگر کلام اس معنی کو بیان کرنے کے لئے نہیں لایا گیا ہے ،تو اس کو ظاہر کہیں گے اور کلام اس معنی کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے تو اس کو نص کہیںگے ،اور اگر تخصیص وتاویل کا احتمال نہ ہوتو بھی دو صورتیں ہیں،نسخ وتبدیل کا احتمال ہے یا نہیں ،اگر ہے تومفسر اور نہیں ہے تو محکم کہیں گے ،اب سب کی تعریف کررہے ہیں ۔
الظاھر وھو :- ظاہر اس کلام کو کہتے ہیں کہ سننے والے کو سنتے ہی اس کی مراد معلوم ہوجائے یعنی محض صیغہ سے ہی وہ کلام کی مراد سمجھ جائے، بشر طیکہ جس زبان میں کلام کیا جائے وہ اس زبان کو جانتا ہو۔
والنص وھو:-نص اس کلام کو کہتے ہیں کہ جس میں ظاہر سے زیادہ ظہور ہو،کیونکہ اس میں ظہور صیغہ اور لفظ کے علاوہ ایسے سبب سے بھی ہے جو متکلم کی طرف راجع ہے،یعنی متکلم یہ معنی بیان کرنے کے لئے بالقصد یہ کلام لایا ہے، اور ظاہر میں معنی بتانے کے لئے کلام کو بالقصد لایا نہیں جاتاہے،دونوں کی مثال جیسے فَانکِحُوا مَاطَابَ لَکُم مِنَ النِّسَاءِ مَثنٰی وَثُلٰثَ ورُبَاع، یہ کلام نکاح کے جواز اور مباح ہونے کو بتانے میں ظاہر ہے ،کیونکہ کلام کو سنتے ہی اہل زبان یہ بات سمجھ جاتا ہے ،اور عدد بتانے میں یہ کلام نص ہے کیونکہ عددبتانے کے لئے ہی یہ کلام چلایا گیا ہے ۔
وَالْمُفَسَّرُ وَھُوَ مَاازْدَادَ وُضُوْحًا عَلَی النَّصِ عَلٰی وَجْہٍ لَا یَبْقٰی فِیْہِ اِحْتِمَالُ التَّخْصِیْصِ وَالتَّاوِیْلِ نَحْوقَوْلِہِ تَعَالی فَسَجَدَ الْمَلٰئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ وَحُکْمُہُ اَلْاِیْجَابُ قَطْعاً بِلَا اِحْتِمَالِ تَخْصِیْصٍ وَلَاتَأوِیْلٍ اِلَّا اَنَّہٗ یَحْتَمِلُ النَّسْخَ فَاِذَا ازْدَادَ قُوَّۃً وَاُحْکِمَ الْمُرَادُ بِہِ عَنِ التَّبْدِیْلِ سُمِّیَ مُحْکَمًا
ترجمہ:-اورمفسر وہ کلام ہے جو بڑھا ہوا ہو وضاحت کے اعتبار سے نص پر اس طور پر کہ نہ باقی رہے اس میں تخصیص وتاویل کا احتمال جیسے اللہ تعالی کافرمان فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون تمام فرشتوں نے ایک ساتھ سجدہ کیا ، اور مفسر کا حکم قطعی طور پر حکم کو ثابت کرناہے بغیر تخصیص وتاویل کے احتمال کے مگر یہ کہ مفسر نسخ کا احتمال رکھتا ہے ، پس جب بڑھ جائے مفسر قوت کے اعتبار سے اور محکم (مضبوط ) ہوجائے اس کی تبدیل سے تو اس کا نام رکھا جائے گا محکم ۔
------------------------------
تشریح:-مفسر اس کلام کوکہتے ہیں جس میں نص سے زیادہ وضاحت ہو ،نص سے زیادہ وضاحت اس لئے ہوگی کہ اس میں تخصیص وتاویل کا احتمال نہیں رہے گا جبکہ نص میں یہ احتمال ہے، اس کی مثال جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد’’ تمام