گا، کیونکہ مشترک دوسرے معنی سے منفرد نہیں ہوتاہے، بلکہ ایک سے زیادہ معنی کو شامل ہوتا ہے __ اور خاص کے معنی چونکہ افراد سے بھی منفرد ہوتے ہیں یعنی بہت سے افراد کو شامل نہیں ہوتے تو اس سے عام نکل جائے گا کیونکہ عام کے معنی افراد سے منفرد نہیں ہوتے بلکہ بہت سے افراد کو شامل ہوتے ہیں ۔
یہاں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ خاص کے لفظ سے جو خصوص مفہوم ہورہا ہے وہ تین طرح کا ہے ۔
(۱)خصوصِ جنس یعنی معنی کے اعتبار سے اس کی جنس خاص ہو، اگر چہ اس کا مصداق متعدد ہو جیسے انسان، حیوان
(۲)خصوصِ نوع یعنی معنی کے اعتبار سے اس کی نوع خاص ہو، اگر چہ اس کا مصداق متعدد ہوجیسے رجل، امرأۃ
(۳)خصوص ِعین یعنی شخصِ معین ہو جیسے راشد،خالد وغیرہ ۔
مصنفؒنے یہا ں خاص کی دو تعریفیں کی ہیں، اگرچہ پہلی تعریف خاص کی تینوں قسموں کو شامل تھی ،مگر خاص کی تیسری قسم خاص العین کے لئے مستقل الگ سے تعریف کی، جو صرف اسی کو شامل ہو ،پہلی دو قسموں کو شامل نہ ہو، کیونکہ خاص العین خصوصیت میں ایسا کامل ہے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی شرکت نہیں ہے ۔
عام کہتے ہیں جو بہت سارے افراد کو شامل ہو لفظاً یا معنًی ،یعنی عام کے معنی موضوع لہ میں تعدد ہوتا ہے، اس لئے وہ براہ ِ راست افراد پر دلالت کرتا ہے،پھر تعدد دو طرح کاہے ،لفظی تعدد جیسے جمع کے تمام صیغے اور معنًی تعدد جیسے من ، ما،قوم ، رہط وغیرہ۔بہر حال خاص میں توحدوانفراد ملحو ظ ہوتا ہے اور عام میں تعدد ہوتا ہے، اگر خاص میں کہیں تعدد نظر آئے گا تو وہ معنی ٔموضوع لہ کے افراد و جزئیات کی وجہ سے ہوگا انتہیٰ
وَحُکْمُہٗ اَنَّہٗ یُوْجِبُ الْحُکْمَ فِیْمَا تَنَاوَلَہُ قَطْعًاویَقِیْنًاکَالْخَاصِّ فِیْمَا تَنَاوَلَہُ وَھُوَ الْمَذْھَبُ عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافَعِیِّ إِلَّاأَنَّہُ إِذَا لَحِقَہُ خُصُوْصٌ مَعْلُوْمٌ اُوْ مَجْھُوْلٌ کَآیَۃِ الرِّبٰوا فِی الْبَیْعِ فَحِیْنَئِذٍ یُوْجِبُ الحُکْمَ عَلٰی تَجَوُّزِ اَنَّہُ یَظھَرُ الْخُصُوْصُ فَیْہِ بِتَعْلِیْلِہِ أَوْبِتَفْسِیْرِہٖ
ترجمہ:- اورعام کا حکم یہ ہے کہ وہ واجب کرتا ہے حکم کو ان تمام افراد میں جن کو وہ شامل ہوتا ہے قطعی اور یقینی طور پر،جیسا کہ خاص ان تمام افراد میں جن کو وہ شامل ہوتا ہے ،اور یہی مذہب ہے ہمارے نزدیک ،امام شافعی ؒ کے خلاف ، مگر جب کہ عام کو لاحق ہوجائے مخصص ِ معلوم یا مخصص ِ مجہول جیسا کہ آیت ِربٰو ہے بیع میں، پس اس وقت عام حکم کو واجب کر یگا اس بات کے احتمال کے ساتھ کہ تخصیص ظاہر ہوجائے عام میں مخصصِ معلوم کی علت بیان کرنے کی وجہ سے یا مخصصِ مجہول کی تفسیر کرنے کی وجہ سے ۔