’’الثیب بالثیب جلدۃ مائۃوالرجم‘‘کے ذریعہ رجم کی زیادتی کردی گئی، تو محصن کے لئے صرف رجم کی حد ہے، اس حدیث میں جو سو کوڑے کی سزا ہے وہ اس منسوخ التلاوۃ آیت سے منسوخ ہوگئی ’’الشیخ والشیخۃ اذازنیا فارجموھما نکالا من اللہ‘‘صرف رجم باقی رہا جو خبر مشہور سے ثابت ہورہا ہے، اور اس کے ذریعہ کتاب اللہ پر زیادتی ہوئی۔
دوسری مثال:-قران کریم میں ’’وارجلکم الی الکعبین‘‘سے غسل کا عموم ثابت ہورہا ہے کہ پیر دھوؤ، چاہے موزے پہنے ہو ںیا نہ پہنے ہوں، مگر اس آیت پر موزے پہنے ہونے کی حالت میں مسح کی زیادتی کی گئی خبر مشہور سے وہ یہ ہے کہ’’رسول اللہﷺ نے مسافر کے لئے تین دن اور تین رات اور مقیم کے لئے ایک دن ایک رات مسح کی مدت مقرر فرمائی ہے‘‘مسح علی الخفین پر چالیس مرفوع وموقوف احادیث ہیں، حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ مجھے ستر صحابہ نے بتایا کہ رسول اللہ ؐ نے موزوں پر مسح کیا ہے،--
تنبیہ:-یہ دونوں مثالیں خبر مشہور کے ذریعہ کتاب اللہ پر زیادتی کی نہیں ہیں،کیونکہ دونوں روایتیں متواتر المعنی ہیں، اس لیے کہ عہد ِصحابہ میں بھی اس کے رواۃ بہت تھے، لہٰذا یہاں خبرِ مشہور میں اس کو پیش کرنا محلِ تأمل ہے۔
تیسری مثال:-کفارۂ یمین کے روزوں میں کتاب اللہ میں فصیام ثلثۃ ایامٍ ہے، پے درپے کی قید نہیں ہے لیکن ابن مسعود کی قرأت جو مشہور ہے اس میں متتابعاتٍ کا لفظ زیادہ ہے، تو اس قراء ۃ مشہورہ سے کتاب اللہ پر متتابعات کی زیادتی کی گئی ، لہٰذا کفارۂ یمین میں تین روزے پے در پے رکھنا ضروری ہے۔
لکنہ لما کان من الاحاد:-ایک وہم کا ازالہ کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ جب شہادت سلف سے خبر مشہور ، خبرِ متواتر کے درجہ میں ہوجاتی ہے ، حتی کے خبرِ مشہورسے کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے، تو خبرِ مشہور سے بھی علمِ یقینی کا فائدہ ہونا چاہیے جیسے خبر متواتر سے علم یقینی کا فائدہ ہوتا ہے، حالانکہ خبر مشہور سے علم طمانیت کا فائدہ ہوتا ہے، نہ علم یقینی کا۔
اس کا جواب دیتے ہیں کہ خبر مشہور چونکہ اصلًا یعنی عہد صحابہ میں آحاد میں سے ہوتی ہے اور آحاد میں شبہ ہوتا ہے، اس لئے یہ علم یقینی کا فائدہ نہیں دیتی، برخلاف متواتر کے کہ اس میں کسی طرح کا کوئی شبہ نہیں ہوتاہے۔
وَخَبْرُ الْوَاحِدِ وَھُوَ الَّذِیْ یَرْوِیْہِ الْوَاحِدُ اَوِالْاِثْنَانِ فَصَاعِدًا بَعْدَ اَنْ یَّکُوْنَ دُوْنَ الْمَشْہُوْرِ وَالْمُتَوَاتِرِ وَحُکْمُہٗ اِذَا وَرَدَ غَیْرُ مُخَالِفٍ لِلْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ الْمَشْہُوْرَۃِ فِیْ حَادِثَۃٍ لَاتَعُمُّ بِہَا الْبَلْویٰ وَلَمْ یَظْھَرْ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمُ