ان کے نزدیک اعتاق میں تجزی نہیں ہے اور امام صاحب کے نزدیک اعتاق درحقیقت ازالۂ ملک کا نام ہے،اور اثباتِ عتق ضمناً ہورہاہے ،اس لئے امام صاحب کے نزدیک اعتاق میں تجزی ہے۔
وھذا الرق ینافی:-مصنفؒ رقیت کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رقیت مالکیت ِمال کے منافی ہے، یعنی غلام بحیثیت ما ل ہونے کے نہ کہ بحیثیت انسان ہونے کے اپنے آقا کا مملوک ہے،لہٰذا وہ مالک بننے کی اہلیت نہیں رکھے گا کیونکہ بیک وقت مالک بھی ہوا ور مملوک بھی ہوایسا نہیں ہوسکتا ،کیونکہ مالک ہونا قدرت کی نشانی ہے اور مملوک ہونا عجز وبے اختیاری کی علامت ہے،پس جب رقیت مالکیت کے منافی ہے تو غلام اور مکاتب تسری کے مالک نہ ہوں گے یعنی وطی اور جماع کے لئے اپنے پاس باندی نہیں رکھ سکتے ،اگر چہ مولی اجازت دے اور نہ ان کی طرف سے حج کی ادائیگی درست ہے،اگر وہ حج ادا کریں گے تو نفل ہوگا چاہے مولی کی اجازت سے ہو،کیونکہ نماز ،اور روزہ کی ادائیگی کے علاوہ ان کے ہر طرح کے بدنی منافع کا مالک مولی ہوتا ہے،لہٰذا ان کو قدرت و استطاعت حاصل نہیں ہے جووجوب ِحج کی شرائط میں ہے ،صرف نماز اور روزے میں جن بدنی منافع کی ضرورت پڑتی ہیںان کے مالک خود ہیں،اور نماز روز ہ کے حق میں یہ غلام نہیں ہوتے بلکہ آزاد ہوتے ہیں۔
وَالرَّقُّ لَایُنَافِیْ مَالِکِیَّۃَ غَیْرِ الْمَالِ وَھُوَ النِّکَاحُ وَالدَّمُ وَالْحَیٰوۃُ وَیُنَافِیْ کَمَالَ الْحَالِ فِیْ اَھْلِیَّۃِ الْکَرَامَاتِ الْمَوْضُوْعَۃِ لِلْبَشَرِ فِی الدُّنْیَا مِثْلُ الذِّمَّۃِ وَالْوِلَایَۃِوَالْحِلِّ حَتّٰی اَنَّ ذِمَّتَہٗ ضَعُفَتْ بِرِقِہٖ فَلَمْ تَحْتَمِلِ الدَّیْنَ بِنَفْسِھَا وَضُمَّتْ اِلَیْھَا مَالِیَّۃُ الرَّقَبَۃِ وَالْکَسْبُ وَکَذٰلِکَ الْحِلُّ یَتَنَصَّفُ بِالرِّقِّ حَتّٰی اَنَّہٗ یَنْکِحُ الْعَبْدُ اِمْرَأَتَیْنِ وَتْطَلَّقُ الْاَمَۃُ ثِنَتَیْنِ وَتُنَصَّفُ الْعِدَّۃُ وَالْقَسَمُ وَالْحَدُّوَ اِنْتَقَصَتْ قِمْیَۃُ نَفْسِہٖ لِاَنَّہٗ اَھْلٌ لِلتَّصَرُّفِ فِی الْمَالِ وَاِسِتِحْقَاقِ الْیَدِعَلَیْہِ دُوْنَ مِلْکِہٖ فَوَجَبَ نُقْصَانُ بَدَلِ دَمِہٖ عَنِ الدِّیَۃِ لِنُقْصَانٍ فِیْ اَحَدِضَرْبِیَ الْمَالِکِیَّۃِ کَمَا تُنَصَّفُ الدِّیَۃُ بِالْاُنُوْثَۃِ لِعَدْمِ اَحَدِھِمَا وَھٰذَا عِنْدَنَا اَنَّ الْمَاذُوْنَ یَتَصَرَّفُ لِنَفْسِہٖ وَیَجِبُ لَہٗ الْحُکْمُ الْاَصْلِیْ لِلتَّصَرُّفِ وَھُوَ الْیَدُ وَالْمَوْلٰی یَخْلُفُہٗ فِیْمَاھُوَ مِنَ الزَّوَائِدِ وَھُوَالْمِلْکُ الْمَشْرُوْعُ لِلتَّوْصُّلِ اِلَی الْیَدِ وَلِھٰذَا جَعَلْنَا الْعَبْدَ فِیْ حُکْمِ الْمِلْکِ وَفِیْ حُکْمِ بَقَاءِ الْاِذْنِ کَالْوَکِیْلِ فِیْ مَسَائِلِ مَرَضِ الْمَوْلٰی وَفِیْ عَامَۃِ مَسَائِلِ الْمَاذُوْنِ ۔