لِیُعْلَمَ اَنَّ اِخْتِفَائَہٗ لِمَزِیَّۃٍ اَوْنُقْصَانٍ فَیَظْھَرُ الْمُرَادُمِنْہٗ
ترجمہ:-اور ان اقسام کی کچھ اضداد ہیں جو ان کے مقابل ہیں،پس ظاہر کی ضد خفی ہے ،اور خفی وہ کلام ہے جس کی مراد پوشیدہ ہو صیغہ کے علاوہ کسی عارض کی وجہ سے،اس طور پر کہ نہ حاصل کی جاسکے مراد مگر طلب سے جیسے آیتِ سرقہ کہ وہ خفی ہے جیب کترے اور کفن چور کے حق میں،ان دونوں کے خاص ہونے کی وجہ سے دوسرے نام کے ساتھ جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں،اور خفی کا حکم اس میں غور وفکر کرنا ہے، تاکہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ اس کا خفاء معنی کی زیادتی کی وجہ سے ہے یا کمی کی وجہ سے ،کہ ظاہر ہوجائے اس کی مراد ۔
------------------------------
تشریح:-مذکورہ چار قسموں ظاہر ،نص،مفسر،محکم میں جس طرح ظہور کے درجات ہیں۔کم،زیادہ ہونے کے، اسی طرح ان کے مقابل جوچار قسمیں ہیںخفی،مشکل،مجمل،متشابہ،ان میں خفاء کے درجات ہیں،یعنی خفاء میں کمی بیشی ہے ، مصنف ؒ ان سب کی آگے تعریف کررہے ہیں۔
خفی کی تعریف:-ظاہر کی ضد خفی ہے ،اور خفی وہ کلام ہے جس کی مراد صیغہ کے علاوہ کسی عارض کی وجہ سے پوشیدہ ہو،صیغہ میں خفاء نہ ہو، کیونکہ اگر صیغہ میں خفا ہوگا تو خفا بھاری ہوجائے گا ،پھر یہ مشکل ومجمل ہوجائے گا ،اور وہ ظاہر کے مقابل میں نہ رہے گا ،اور یہ کسی عارض کی وجہ سے جو خفا ہے وہ تھوڑی طلب اور جستجو سے دور ہوجائے گا ،جیسے السارق والساقۃ فاقطعوا ایدیھما،یہ آیت چور کے ہاتھ کاٹنے میں تو ظاہر ہے ،مگر طرار اور نباش یعنی جیب کتر ااور کفن چور کے بارے میں خفی ہے،اور خفا صیغہ سے نہیں، بلکہ ایک عارض کی وجہ سے آیا ہے ،وہ یہ کہ عرف میںان کو سارق نہیں کہا جاتاہے، بلکہ یہ دوسرے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں، طرار اور نباش کے نام سے جانے جاتے ہیں ،اس لئے خفا ہوگیا کہ آیا یہ سارق کے حکم میں آئینگے یا نہیں ،مگر ہم نے تھوڑا غور کیا کہ سرقہ کہتے ہیں غیر کے محفوظ مال کو محفوظ جگہ سے لینا ،اب دیکھا کہ طرار میں یہ بات زیادتی کے ساتھ پائی جاتی ہے، کیونکہ وہ تو محافظ کی بیداری کی حالت میں مال لیتا ہے،اور نباش میں یہ معنی کمی کے ساتھ ہے کیونکہ وہ مال غیر محفوظ کو لیتا ہے،لہٰذا معلوم ہوا کہ طرار میں جب چوری کے معنی زیادتی کے ساتھ ہے تو اس کا ہاتھ بدرجہ اولی کاٹا جاناچاہیے ،اور نباش میں کمی کے ساتھ ہے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ اس کو سارق نہیں کہیںگے ،خفی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آدمی اپنا حلیہ بدلے بغیر کسی جگہ چھپ جائے تو طلب وجستجو سے یہ مل جائے گا۔
وَضِدُّ النَّصِّ اَلْمُشْکِلُ وَھُوَ مَالَا یَنَالُ الْمُرَادُ مِنْہُ اِلَّابِالتَّأَمُّلِ فِیْہِ بَعْدَالطَّلَبِ لِدُخُوْلِہِ فِی اَشْکَالِہِ وَحُکْمُہُ اَلتَّأَمُّلُ فِیْہِ بَعْدَ الطَّلَبِ