وقالا یتعلقن جملۃ:-صاحبین کے نزدیک چونکہ تکلم میں تراخی نہیں ہوتی، اس لئے تینوں طلاقیں شرط پر معلق ہوجائیں گی اور شرط کے پائے جانے کے وقت ترتیب سے واقع ہوں گی، چاہے شرط کو مقدم کیا ہویا مؤخر، اس لئے کہ عطف کی وجہ سے تینوں طلاقیں جمع ہوں گی ،اور تراخی کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ترتیب سے واقع ہوں گی، اگر عورت مدخول بہا ہے تو وجودِ شرط کے وقت تینوں ترتیب سے واقع ہوجائیں گی، اور اگر غیر مدخول بہا ہے، تو پہلی طلاق سے بائنہ ہوجائے گی، باقی کا محل نہ رہے گی، تو باقی دو لغو ہوجائیں گی۔
مصنفؒ فرماتے ہیں کہ کبھی ثم واؤ کے معنی میں لیا جاتا ہے مجازاً، جب اس کا حقیقی معنی یعنی تراخی متعذر ہو، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ثم کان من الذین آمنوا‘‘یہاں ثم کو حقیقی معنی میں لینا متعذر ہے، کیونکہ اس سے پہلے کی آیت میں اعمال صالحہ کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا فلااقتحم العقبۃ وماادرک ماالعقبۃ فک رقبۃ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ، یتیما ذا مقربہ اومسکینا ذا متربۃ، ثم کان من الذین آمنوا‘‘۔
اگر یہاں ثم کے حقیقی معنی مراد لیتے ہیں ،تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فک رقبہ، اطعام طعام وغیرہ اعمال صالحہ پہلے ہیں، اور ایمان بعد میں ہے، تراخی کے ساتھ، حالانکہ ایمان ساتھ ساتھ ہونا چاہیے، بغیر ایمان کے اعمال صالحہ معتبر نہیں ہے، اس تعذر کی وجہ سے ثم کو اس کے معنی سے مجاز کی طرف پھیردیا، واؤکے معنی میں لیا، تو اب یہ خرابی لازم نہ آئیگی، کیونکہ واؤ مطلق جمع کے لئے ہوتا ہے، لہٰذا اعمال صالحہ اور ایمان جمع ہوگئے۔
وَاَمَّا بَلْ فَمَوْضَوْعٌ لِاِثْبَاتِ مَابَعْدَہٗ وَالْاِعْرَاضِ عَمَّا قَبْلَہٗ یُقَالُ جَاءَ نِیْ زَیْدٌ بَلْ عَمْرٌو وَقَالُوْا جَمِیْعًا فِیْمَنْ قَال لِاِمْرَأتِہٖ قَبْلَ الدُّخُوْلِ بِھَااِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَاَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَۃً لَابَلْ ثِنَتَیْنِ اَنَّہٗ یَقَعُ الثَّلٰثُ اِذَا دَخَلْتِ الدَّارَ بِخِلَافِ الْعَطْفِ بِالْوَاوِ وَعِنْدَ اَبِیْ حَنِیْفَۃَؒ لِاَنَّہٗ لَمَّاکَانَ لِاِبْطَالِ الْاَوَّلِ وَاِقَامَۃِ الثَّانِی مَقَامَہٗ کَانَ مِنْ قَضْیَتِہٖ اِتَّصَالُ الثَّانِیْ بِالشَّرْطِ بِلَاوَاسِطَۃٍ لٰکِنَّ بِشَرْطِ اِبْطَالِ الْاَوَّلِ وَلَیْسَ فِیْ وُسْعِہٖ ذٰلِک وَفِیْ وُسْعِہٖ اِفْرَادُ الثَّانِیْ بِالشَّرْطِ لِیَتَّصِلَ بِہٖ بِغَیْرِ وَاسِطَۃٍ فَیَصِیْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْحَلْفِ بِیَمِیْنَیْنِ فَیَثْبُتُ مَافِیْ وُسْعِہٖ۔
ترجمہ:-اور بہرحال بل تو وہ وضع کیا گیا ہے اپنے مابعد کو ثابت کرنے کے لئے ،اور اپنے ماقبل سے اعراض کرنے کے لئے، کہا جاتا ہے جاء نی زید بل عمرو‘‘، اور ائمۃ ثلاثہ نے فرمایا ہے اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی سے دخول سے پہلے کہا ’’ان دخلت الدار فانت طالق واحدۃ لابل ثنتن‘‘کہ عورت جب گھر