اصناف کو ز کوۃ دینا ضروری نہیں ہے،ایک صنف کو دینے سے بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی، بلکہ ایک صنف کے ایک فرد کو دینے سے بھی ادا ہوجائے گی ۔
اولانہ اوجب:-لام عاقبت کا ہے اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ نص انما الصدقات نے مالِ زکوۃ کو فقراء کی طرف پھیرنے کو اس وقت واجب کیا ہے جب وہ صدقہ ہوجائے،اور مال صدقہ اس وقت بنتا ہے جب اللہ کی طرف ادائیگی ہوجائے،اور اللہ کی طرف ادائیگی فقیر کے قبضہ سے پہلے نہیں ہوتی ،پس مالِ زکوۃکو صدقہ بنانے کے لئے فقیر پہلے اللہ کا نائب بنکر قبضہ کرے گا،اب وہ صدقہ ہوگیا ،تواب فقیر کی ملک ہوجائے گا،مطلب یہ ہے کہ پہلے اللہ کا قبضہ ہوگا جس کو فقیر اللہ کا نائب بنکر کررہا ہے ،اس کے بعدانجام کے اعتبار سے فقیر اور دیگر اصناف مالک بنیں گے، غرض اس سے بھی معلوم ہوا کہ لام تملیک کا نہیں ہے،بلکہ عاقبت کا ہے،جب لام تملیک کا نہیں تو تمام اصناف کو زکوۃمیں شریک کرنا ضروری نہیں بلکہ کسی ایک کو دینے سے بھی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
فصارواعلی ھذاالحتقیق:- مصنف اس سے ایک صنف کو زکوۃ دینے کا جواز ثابت کر رہے ہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے جو اوپر تحقیق پیش کی کہ زکوۃ خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور ا ن اصناف کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ بطور مصرف کے ہے، تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ان اصنافِ ثمانیہ کو جو زکوۃ دیناواجب ہے وہ اس لئے نہیں کہ وہ مستحق ہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ وہ محتاج ہیں،اور ان کے جو نام اللہ نے ذکر کئے ہیں وہ سب حاجت کے اسباب ہیں ،گویا اللہ نے یوں کہا انما الصدقات للمحتا جین،پس ان مصارف ِزکوۃ کی مثال ایسی ہو گئی جیسے کعبہ نماز کے لئے، کعبہ نماز کا مستحق نہیںہے،ہم کعبہ کے لئے نماز نہیں پڑھتے ہیں،لیکن کعبہ اس کی صلاحیت رکھتا ہے کہ نماز میں اس کی طرف رخ کیا جائے،پس اسی طرح یہ مصارف زکوۃ،زکوۃ کے مستحق نہیں ہیںلیکن احتیاج کی وجہ سے صلاحیت رکھتے ہیںکہ ان کو زکوۃ دیجائے __اور کعبہ پورے کا پورا بھی نماز کے لئے قبلہ ہے اور اس کا ہرہر جزء بھی قبلہ ہے،اسی طرح ،یہ تمام اصناف بھی زکوۃکے مصرف ہیں ،اور ان میں سے ہر علیحدہ علیحدہ صنف بھی زکوۃ کا مصرف ہے،لہٰذا کسی ایک صنف کو دینے سے بھی زکوۃ اداہوجائے گی بلکہ ایک صنف کے ایک فرد کو دینے سے بھی ادا ہوجائے گی۔
عرض بیان کردہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ نص انما الصدقات میں ان کو مصارف کہنابسبب حاجت کے ہے ،نہ بسبب استحقا ق کے ،لہٰذا تعلیل کی وجہ سے نص کے حکم میں کو ئی تغیر نہیں ہوا۔
وَاَمَّا رُکْنُہٗ فَمَا جُعِلَ عَلَمًا عَلٰے حُکْمِ النَّصِّ مِمَّا اِشْتَمَلَ عَلَیْہِ النَّصُّ وَجُعِلَ الْفَرْعُ نَظِیْرًا لَّہٗ فِیْ حُکْمِہٖ بِوُجُوْدِہٖ فِیْہِ وَھُوَ الْوَصْفُ الصَّالِحُ اَلْمُعَدَّلُ بِظُھُوْرِ