دوسروں پر بھی ولایت نہیں ہوسکتی ہے ،لہٰذا غلام نہ کسی کا نکاح کرسکتا ہے ،نہ قاضی بن سکتا ہے ،نہ گواہ بن سکتا ہے ۔
ایک سوال ہے کہ جب غلام سے ہر طرح کی ولایت منقطع ہے ،تو عبد ِماذون فی الجہاد کے لئے کافر کو امان دینا کیسے صحیح ہے جب کہ یہ بھی ایک ولایت ہے،کیونکہ وہ کافر مسلمانوں کا غلام بنے گااور اس کا مال غنیمت ہوگا، مگر اس کو امان دیکر اس پر مسلمانوں کا حق ساقط کردیا تو یہ غیر پرتصرف ہوا جس کو ولایت کہتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جب مولی نے غلام کو جہادکی اجازت دیدی، تو غلام بھی دوسرے مجاہدین کی طرح مالِ غنیمت میں شریک ہوگیا،اگر چہ غنیمت کاکامل حصہ نہ سہی عطیہ اور رضخ ہی سہی، مگر ہے تو فی الجملہ مال غنیمت ہی،اب جب وہ کافر کو امان دے گا تو اولا اس نے اپنے حق میں تصرف کیا،پھر دوسروں کے حق میں اس کا اثر ضمناً پڑا،لہٰذا یہ بابِ ولایت میں سے شمار نہ ہوگا،اور یہ ایسا ہی ہے جیسے غلام رمضان کے چاند کی گواہی دے،تو اس کی گواہی صحیح ہے اگر چہ وہ اہلِ ولایت میں سے نہیں ہے ،مگر پھر بھی شہادت اس لئے قبول ہے کہ اولاً وہ اپنے اوپر روزہ لازم کررہا ہے پھر ضمنا اورتبعاً یہ حکم دوسروں کی طرف متعدی ہورہا ہے ،پس غلام کا ہر وہ فعل جوپہلے غلام کو متاثر کرے، پھر ضمناً آقا کی ملکیت کو ضائع کرے تو وہاں غلام کا فعل معتبر ہوگا۔
وعلی ھذا الاصل یصح:-اسی اصول پر کہ غلام کا وہ فعل جو اولاً اس پر لازم ہو،تو پھر وہ تبعاً دوسروں کی طرف معتدی ہوسکتا ہے __غلام اگر حدود اور قصاص کا اقرار کرے تو صحیح ہے،اور یہ اعتراض لازم نہ آئے گاکہ غلام کے اقرار سے مولی کا حق ضائع ہورہا ہے ،یعنی غلام کا ملک ِرقبہ جو قصاص سے ضائع ہوگا،کیونکہ اولاً غلام نے اپنا حق تلف کیا، اور اس کے ضمن میںمولی کا حق تلف ہورہا ہے ،اور یہ درست ہے کہ اولاً غلام پر کوئی چیز لازم ہو پھر وہ دوسروں کی طرف متعدی ہو، __اسی طرح غلام اگر چوری کا اقرار کرے تو درست ہے،چاہے مال مسروق ہلاک ہوگیا ہویا موجود ہو، غلام ماذون ہویا محجور ،بہرصورت اقرار درست ہے ،اب اگرمالِ مسروق ہلاک ہوگیا تو صرف ہاتھ کٹے گا،ضمان واجب نہ ہوگا، کیونکہ قطعِ یداور ضمان دونوں سزائیں ایک ساتھ نہیں ہوتی ہیں،اور اگر مالِ مسرو ق مو جود ہے تو جس سے چرایاہے اس کو واپس کرنا ضروری ہے اور ہاتھ بھی کٹے گا،یہ غلام ِماذون کے بارے میں حکم ہے،__اور غلامِ محجور میں ائمہ کا اختلاف ہے،اگر غلام محجور چوری کرے تو دیکھیں گے کہ مالِ مسروق موجود ہے یا ہلاک ہوگیا ،اگر ہلاک ہوگیا تو قطع ید ہوگا،اور اگرمال باقی ہے،تو دیکھیں گے کہ آقا اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب،اور مولی تصدیق کرتا ہے تو غلام محجور کا ہاتھ بھی کٹے گا اور مال لوٹا نابھی ضروری ہے،اور اگرتکذیب کرتا ہے تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس صورت میں بھی قطعِ ید اور ما ل کو لوٹانادونوں ضروری ہیں،امام ابویوسف کے نزدیک ہاتھ تو ابھی کٹے گامگر مالِ مسروق کا ضمان اس کے آزاد ہونے کے بعد واجب ہوگا ،اور امام محمد کے نزدیک ابھی نہ اس کا ہاتھ کٹے گا نہ مال کو