وفرقہ بین المالی -یہ پانچویں مقدمہ کی تردید ہے،امام شافعیؒ نے جو کفارہ مالی اور بدنی میں فرق کیا ہے اور یہ کہا کہ واجب ِمالی میں نفس ِوجوب وجوب ِادا سے جدا ہوجاتا ہے ،اس لئے مالی کفارہ حانث ہونے سے پہلے دے سکتے ہیں اور واجب ِبدنی میں نفس ِوجوب اور وجوبِ ادا میں فصل نہیں ہوتاہے، بلکہ دونوں حانث ہونے کے بعد ایک ساتھ ہوتے ہیں، اس لئے بدنی کفارہ قبل الحنث دینا جائز نہیںہے، یہ غلط ہے،کیونکہ واجب ِمالی میں اللہ تعالیٰ کا حق عینِ ِمال نہیں ہے بلکہ بندہ کا فعل ِادا ہے،کیونکہ مال تو ایک آلہ ہے،تو جب اللہ کا حق بندہ کا فعل ِ ادا ہوا تو واجب ِمالی بھی واجب بدنی کی طرح ہوگیا، جس طرح واجب ِبدنی میں نفس ِوجوب وجوبِ ادا سے جدا نہیں ہوتا ہے ایسے ہی واجب ِمالی میں بھی ہوگیاتو واجب ِبدنی اور مالی دونوں میں نفس ِوجوب اور وجوبِ ادا دونوں حانث ہونے کے بعد ایک ساتھ ہوں گے تو قبل الحنث نہ کفارہ ٔ مالی ہوسکتا ہے نہ بدنی۔
ہاں حقوق العباد میں آپ نفس وجوب اور وجوب ادا کو جدا کرسکتے ہیں، کیونکہ حقوق العباد میں عین ِمال مقصود ہوتا ہے ، لیکن حقوق اللہ میں یہ فصل نہیں ہوسکتا ،اور کفارہ چونکہ حقوق اللہ میں سے ہے اس لئے اس میں یہ فرق نہیں ہوسکتا ہے۔
وَمِنْ ھٰذِہِ الْجُمْلَۃِ مَاقَالَ الشَّافِعِیُّؒ أِنَّ الْمُطْلَقَ مَحْمُوْلٌ عَلَی الْمُقَیَّدِ وَاِنْ کَانَافِی حَادِثَتَیْنِ مِثْلُ کَفَّارَۃِ الْقَتْلِ وَسَائِرِ الْکَفَّارَاتِ لِأَنَّ قَیْدَا لْاِیْمَانِ زِیَادَۃُ وَصْفٍ یَجْرِیْ مَجْرَیْ الشَّرْطِ فَیُوجِبُ نَفْیَ الْحُکْمِ عِنْدَ عَدَمِہٖ فِی الْمَنْصُوْصِ عَلَیْہِ وَفِی نَظِیْرِہٖ مِنَ الْکَفَّارَاتِ لِأَنَّھَا جِنْسٌ وَاحِدٌ
ترجمہ:-اور من جملہ وجوہ فاسدہ میں سے وہ ہے جو امام شافعی ؒ نے فرمایا کہ مطلق محمول ہوگا ، مقید پر اگرچہ وہ دونوں دو حادثوں میں ہوں ، جیسے کفارۂ قتل اور تمام کفارات ، اس لیے کہ ایمان کی قید ایک زائد وصف ہے جو شرط کی جگہ پر ہے تو شرط حکم کی نفی کو واجب کرے گا شرط کے نہ ہونے کے وقت منصوص علیہ میں اور اس کی نظیر میں یعنی دیگر کفارات میں ، اس لئے کہ (کفارات )جنس ِ واحد ہے۔
------------------------------
تشریح:-تیسری وجہ فاسد بیان کررہے ہیں جس کے قائل امام شافعی ؒہیں کہ ایک جنس کے دو حکم ہوں،ان میں ایک مطلق ہو اور دوسرا مقید ہو ،تو مطلق کو مقیدپرمحمول کرلیا جائے گا ،یہ دونوں حکم چاہے ایک واقعہ میں ہوں یا الگ الگ واقعہ میں، مطلق سے مراد صرف ذات پر دلالت ہو،اور مقید سے مراد ذات پر دلالت وصف کے ساتھ ہو ،جیسے رقبہ مطلق ہے اور رقبہ مومنہ مقید ہے۔
مطلق ومقید ایک واقعہ میں ہوں اس کی مثال جیسے ظہار کے کفارہ میں تین چیزیں بیان کی گئی ہیں ،غلام آزاد