جیسے ایک آدمی جانور کو آگے سے کھینچ کریا پیچھے سے ہنکا کرلے جارہا ہے،اور اس جانور کے پیروں میں ایک آدمی کچل کرمرگیا ،تو جانور کو ہنکا کرلے جانے والے پر ضمان اور دیت آئے گی،کیونکہ یہاں اس آدمی کا کچل کرہلاک ہونا حکم ہے ، اور اس کا جانور کو ہانکنا اور کھینچنا سبب ہے ،اور ان دونوںکے درمیان ایک علت ہے یعنی جانور کا پیروں سے اس کو کچلنا ، لیکن یہ علت سبب یعنی جانور کو ہانکنے اور کھینچنے کی طرف منسوب ہے،کیونکہ اس کے ہانکنے اور کھینچے کی وجہ سے ہوا ،ورنہ جانور کو تو اپنے فعل میں کوئی اختیار نہیں ہے ،تو سوق وقودیعنی ہانکنا اور کھینچنا علت العلت ہوا ،لہٰذا ہلاکت کا حکم اس کی طرف منسوب ہوگا اور اس پر دیت آئے گی۔
تنبیہ:-علت العلۃکی طرف حکم کی نسبت یعنی ہلاکت کا ضمان سائق اور قائد پر آئے گا،یہ صرف ضمان اور دیت کی حدتک ہے،لیکن براہِ راست ارتکابِ فعل پر جو سزا مرتب ہوتی ہے اس میں حکم کی نسبت علۃ العلۃ کی طرف نہ ہوگی ،لہٰذااگر جانور کے پیروں تلے اس کا مورث کچل کرمرگیا ،تو سائق وقائد میراث سے محروم نہ ہوگا،اور نہ کفارہ وقصاص آئے گا ،خلاصہ یہ کہ سائق پر صرف ضمانِ محل آئے گا ،ضمانِ مباشرت لازم نہ ہوگا ۔
فاما الیمین باللّٰہ:-سبب کی تیسری قسم یعنی سبب ِمجازی کابیان ہے، یمین کفارہ کا سبب ِمجازی ہے، اسی طرح طلاق وعتاق کو کسی شرط پر معلق کیا، جیسے ان دخلت الدار فانت طالق، ان دخلت الدار فانت حرٌّ،تو یہاں بھی تعلیق جزاء کا سبب ِمجازی ہے،حقیقی سبب نہیں ہے ،اس لئے کہ سبب کا ادنی درجہ یہ ہے کہ وہ حکم تک پہنچنے کا ذریعہ ہو،اور اعلی درجہ یہ ہے کہ وہ حکم تک پہنچنے کاذریعہ ہونے کے ساتھ علت کے مشابہ ہویا علت کے معنی میں ہو ،__اور یہاں یمین میں یہ بات نہیں ہے ،بلکہ یمین تو بِّر کے لئے یعنی پوری کرنے کے لئے مشروع ہوئی ہے،چاہے یمین باللہ ہویا یمین بغیر اللہ یعنی تعلیق ہو،اور یمین کوپورا کرنا یہ حکم یعنی کفارہ تک پہنچانے والا نہیں ہے ،اور یمین بغیر اللہ یعنی تعلیق میں بھی جزاء تک پہنچانے والا نہیں ہے ،کیونکہ کفارہ تک اور جزاء تک تو حنث پہنچاتا ہے اور قسم کو پورا کرنا حنث کی ضد ہے،لہٰذا یمین کسی طرح بھی کفارہ اور جزاء کا سبب نہیں ہوسکتی __لیکن چونکہ یہ احتمال ہے کہ آدمی کسی وجہ سے یمین پوری نہ کرسکے اور حانث ہوجائے ،تو یمین کفارہ اور جزاء تک مفضی ہوگی ،تو مایؤل کے اعتبار سے یمین کو کفارہ اور جزاء کا سبب کہدیا گیا اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ اعتبارِ مایؤل علاقۂ مجاز ہے ،لہٰذا یمین سبب ِمجازی ہوا،یہ تمام تر تفصیل کہ یمین کو مایؤل کے لحاظ سے سبب کہا گیا فی الحال یہ سبب نہیں یہ ہمارے نزدیک ہے،امام شافعیؒ کا اس میں اختلاف ہے،جس کو مصنف اگلی عبارت میں بیان کررہے ہیں۔
وَالشَّافِعِیُ ؒ جَعَلَہٗ سَبَبًا ھُوَ فِیْ مَعْنَی الْعِلَّۃِ وَعِنْدَنَا لِھٰذَا الْمَجَازِِِ شُبُھَۃُ