کرنا معتبر ہے،تو طلاق جو عورت کے قبول کرنے پر موقوف تھی وہ واقع ہوجائے گی،البتہ مال کاوجوب رضامندی پر موقوف ہے،اور اکراہ میں رضامندی نہیں ہوتی تو ایسا ہوگیا گویامال ذکرہی نہیںہوا،لہٰذا طلاق بلامال واجب ہوگی،--یہ ایسا ہوگیا جیسے کسی نے اپنی صغیرہ بیوی کو مال پر طلاق دی ،تو یہ طلاق صغیرہ کے قبول کرنے پر موقوف ہوگی،پس جب صغیرہ قبول کرلے گی تو طلاق واقع ہوجائے گی،لیکن مال واجب نہ ہوگا،طلاق تو اس لئے واقع ہوگی کہ اس نے قبول کرلیا ہے،اور مال اس لئے واجب نہ ہوگاکہ صغیرہ اپنے اوپر مال کو لازم کرنے کی اہل نہیں ہے،بعینہ یہی صورت ِاکراہ میں ہے کہ باوجود اکراہ کے اختیار موجود ہونے کی وجہ سے عورت کا قبول کرنا معتبر ہے،لہٰذا طلاق واقع ہوجائے گی،اور مال کا وجود چونکہ رضامندی پر موقوف ہے،اور اکراہ میں رضا مندی نہیں ہے،اس لیے مال واجب نہ ہوگا ۔
بخلاف الھزل:-ایک سوال ِمُقَدّر کا جواب ہے ،جس کی تقریر یہ ہے کہ جب طلاق کے سلسلہ میں اکراہ،ہزل کے ساتھ ملحق ہے یعنی دونوں کادرجہ ایک ہے اور اکراہ اور ہزل دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجاتی ہے،تو خلع پر اکراہ کی صورت میں طلاق کے ساتھ مال بھی واجب ہونا چاہیے جیسے ہزل کی صورت میں طلاق کے ساتھ بالاتفاق مال واجب ہوجاتا ہے،حالانکہ آپ کہتے ہیں کہ خلع پر اکراہ کی صورت میں طلاق تو واقع ہوتی ہے،مال واجب نہیںہوتا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اکراہ اور ہزل میں بہت بڑا فرق ہے،اس لئے کہ ہزل میں سبب سے رضا ہوتی ہے،حکم سے رضا نہیں ہوتی،یعنی ہزل کرنے والا حکم پر تو راضی نہیں ہوتا،مگر سبب پر راضی ہوتا ہے،جیسے خیارِ شرط رضا بالحکم سے تو مانع ہے رضابالسبب سے مانع نہیں ہے،اور اکراہ میں سبب اور حکم دونوں ہی سے رضا نہیں ہوتی ہے،جب دونوں میں فرق ہے تو اکراہ کو ہزل پر قیاس نہیں کرسکتے۔
وَاِذَا اِتَّصَلَ الْاِکْرَاہُ الْکَامِلُ بِمَایَصْلَحُ اَنْ یَّکُوْنَ الْفَاعِلُ فِیْہِ اٰلَۃً لِغَیْرِہٖ مِثْلُ اِتْلَافِ النَّفْسِ وَالْمَالِ یُنْسَبُ الْفِعْلُ اِلَی الْمُکْرِہِ وَلَزِمَہٗ حُکْمُہٗ لِاَنَّ الْاِکْرَاہَ الْکَامِلَ یُفْسِدُ الْاِخْتِیَارَ وَالْفَاسِدُ فِیْ مُعَارَضَۃِ الصَّحِیْحِ کَالْعَدَمِ فَصَارَ الْمُکْرَہُ بِمَنْزِلَۃِ عَدِیْمِ الْاِخْتِیَارِ اٰلَۃً لِلْمُکْرِہِ فِیْمَا یَحْتَمِلُ ذٰلِکَ اَمَّافِیْمَا لَایَحْتَمِلُہٗ فَلَا یَسْتَقِیْمُ نِسْبَتُہٗ اِلَی الْمُکَرِہٖ فَلَا یَقَعُ الْمُعَارَضَۃُ فِیْ اِسْتِحْقَاقِ الْحُکْمِ فَبَقِیَ مَنْسُوْبًا اِلَی الْاِخْتِیَارِ الْفَاسِدِ وَذٰلِکَ مِثْلُ الْاَکْلِ وَالْوَطْیِ وَالْاَقْوَالِ کُلِّھَا فَاِنَّہٗ لَایُتَصَوَّرُ اَنْ یَاکُلَ الْاِنْسَانُ بِفَمِ غَیْرِہٖ وَاَنْ یَّتَکَلَّمَ وَکَذٰلِکَ اِذَا کَانَ نَفْسُ الْفِعْلِ