قربت ِمقصودہ بن کر مشروع نہیں ہوا ہے، یہاں تک کہ وہ نذر سے لازم نہیں ہوتا ہے،اور مقصودِ محض وہ چیز ہے جو تو اضع کی صلاحیت رکھے ،اور نماز کا رکوع یہ کام کرتا ہے بر خلاف نماز کے سجدہ کے ،اور نماز کے علاوہ کے رکوع کے، پس اثر ِ خفی فساد ِ ظاہر کے ساتھ اس اثر ِ ظاہر سے اولی ہے جو فساد ِ خفی کے ساتھ ہے،اور یہ قسم ایسی ہے جس کا وجود کم ہے،اور بہرحال پہلی قسم تو وہ شمار سے زیادہ ہے۔
------------------------------
تشریح:-ماقبل میں استحسان کو قیاس پر مقدم کرنا بیان کر چکے ،یہاں قسم ِثانی یعنی قیاس کو استحسان پر مقدم کرنا بیان کررہے ہیں،جس کی تقریر یہ ہے کہ کسی نے نماز میں آیت ِسجدہ تلاوت کی اور رکوع میں سجدۂ تلاوت ادا کرنے کی نیت کی، تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ رکوع میں سجدۂ تلاوت اداہوجائے گا اور استحسان کا تقاضایہ ہے کہ ادانہ ہوگا،__قیاس کی دلیل یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ دونوں خضوع کے معنی میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں،یعنی دونوں میں خضوع اور تواضع کے معنی ہیں،اسی لئے قران میں سجدہ کو رکوع سے تعبیر کیاگیا ہے جیسے وخرراکعا واناب-یہاں داؤدؑکے سجدہ کو رکوع سے تعبیر کیا،خرکے معنی زمین پر گرنا، یہ دلیل ہے کہ رکوع سے مراد سجدہ ہے،لہٰذا جب رکوع اور سجدہ دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں،تو رکوع میں بھی سجدہ ٔتلاوت اداہو جائے گا __اور استحسان کی دلیل یہ ہے کہ شریعت نے ہم کو آیتِ سجدہ کی تلاوت کے وقت سجدہ کا حکم دیا ہے،اور سجدہ کی حقیقت اور ہے،رکوع کی حقیقت اور ہے،لہٰذا رکوع سجدہ کے قائم مقام نہیں ہوسکتا ہے، اسی لئے نماز کا سجدہ رکوع سے اور نماز کارکوع سجدہ سے ادا نہیں ہوتاہے ،حالانکہ نماز کا سجدہ رکوع سے زیادہ قریب ہے بہ نسبت سجدۂ تلاوت کے،پس جب نماز کے رکوع سے نمازکا سجدہ ادا نہیں ہوتا تو سجدۂ تلاوت بھی رکوع سے ادانہ ہوگا۔
فھذا اثر ظاھر:- یہ قیاس اور استحسان کا ظاہری اثر ہے،استحسان میں جو بتایا کہ رکوع اور سجدہ دونوںالگ الگ چیزیں ہیں،لہٰذادونوں ایک دوسرے کے قائم مقام نہیں ہو سکتے __ یہ ظاہر نظر کے اعتبار سے بہت عمدہ معلوم ہورہا ہے مگر اس کا باطنی اثر اس میں فساد ہے،پس استحسان میں ظاہر کے عمدہ اور باطن میں فساد کی وجہ سے اس کو قیاس کے مقابلہ میں مرجوح قرار دیا،کیونکہ قیاس ظاہری نظر میں ضعیف ہے__ وہ اس طرح کہ قیاس کی بنیاد مجاز پر رکھی گئی ہے،کیونکہ قران میں سجدہ کورکوع جو کہا ہے وہ مجازاًکہا ہے ،اور مجاز حقیقت کے مقابلہ میں ضعیف ہوتا ہے،تو قیاس کی بناء مجاز پر ہے ،اس لئے ظاہراًیہ ضعیف ہے اوراستحسان کی بنا حقیقت پر ہے اس لئے استحسان ظاہراً عمدہ ہے __لیکن دقیق نظر سے باطنی اثر دیکھیں گے تو قیاس عمدہ اور استحسان ضعیف ہے وہ کس طرح ؟ اس کو اگلی عبارت میں بیان کررہے ہیں۔
بیانہ ان السجود:-قیاس کے باطنی اثر کوبیان کررہے ہیں کہ سجدۂ تلاوت قربت ِ غیر مقصودہ ہے، جس