وقت ضروری ہے کہ مکلف عمل بھی کرسکے ، صرف اعتقاد تک کا وقت کافی نہیں ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ عمل پر قدرت سے پہلے کسی حکم کے منسوخ ہونے سے شیٔ واحد میں زمان واحد میں حسن وقبح کا اجتماع لازم آئے گا، اور یہ باطل ہے، جیسے مثلاً یہ حکم دیا جائے کہ زوال کے وقت نماز نہ پڑھو، پھر قبل العمل اس کو منسوخ کیا جائے ، کہ زوال کے وقت نماز پڑھو، تو اجتماع ضدین ہے، حسن وقبح جمع ہوگئے ، پہلے حکم میں قبح تھاکہ نماز پڑھنا قبیح ہے، اور دوسرے میں حسن ہے۔
احناف کی دلیل یہ ہے کہ اعتقادِ قلبی اصل ہے، عمل بغیر اعتقاد کے عبادت نہیں بن سکتا، اور اعتقاد بغیر عمل کے عبادت بن سکتا ہے، حدیث ہے نیۃ المومن خیر من عملہ‘‘
دوسری دلیل جب حضورﷺمعراج میں تشریف لے گئے اور پچاس وقت کی نمازیں امت پر فرض ہوئیں پھر کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں تو ابھی عمل کی نوبت نہ آئی کہ منسوخ ہوگئیں، البتہ آپﷺ نے اعتقاد فرمالیا ، تو اس سے معلوم ہوا کہ اعتقاد ِقلبی کے بعد نسخ ہوسکتا ہے۔
ولاخلاف بین الجمھور:-مصنفؒ فرماتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک قیاس ادلۂ اربعہ میں سے کسی کے لئے ناسخ نہیں ہوسکتا ہے، کتاب وسنت کے لئے تو ناسخ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ کتاب وسنت قیاس سے قوی ہے اور قیاس ان کے مقابلہ میں ضعیف ہے، اور ضعیف قوی کے لئے ناسخ نہیں ہوسکتا، نیز صحابہ نے کتاب وسنت کے مقابلہ میں قیاس کو ترک کردیا ہے، حضرت علی نے فرمایا کہ اگر دین کا مدار قیاس پر ہوتا تو باطن ِخف کا مسح ظاہرِ خف سے اولی ہوتا، لیکن میں نے حضورﷺکو ظاہرِ خف پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے نہ کہ باطنِ خف پر، تو حضرت علی نے قیاس کو سنت کی وجہ سے چھوڑدیا۔
اور قیاس اجماع کے لئے اس لئے ناسخ نہیں ہوسکتا کہ اجماع کتاب وسنت کے معنی میں ہے۔
اور قیاس قیاس کے لئے بھی ناسخ نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ نسخ فرع ہے تعارض کی، اور جب دو قیاسوں میں تعارض ہوتا ہے تو ان میں سے ایک بھی ساقط نہیں ہوتا، اور جب ساقط نہیں ہوتا تو ایک دوسرے سے منسوخ کیسے ہوگا۔
اور اسی طرح اکثر علماء کے نزدیک اجماع بھی ادلۂ اربعہ میں سے کسی کے لئے ناسخ نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ اجماع نام ہے آراء کے جمع ہونے کا، اور ناسخ کے ذریعہ منسوخ کے وقت ِحسن کی انتہاء کی معرفت ہوتی ہے، یعنی ناسخ کے آنے سے پہلے تک اس حکم کا کرنا اللہ کے نزدیک حَسَنْ تھا،اور ناسخ نے اس حکم کے حُسْن کی انتہاء بتادی، اور اللہ کے نزدیک کسی چیز میں حسن وقبح کے وقت کی انتہاء کی معرفت میں رائے کا کوئی دخل نہیں، لہٰذا اجماع ناسخ نہیں ہوسکتا۔
ہمارے علماء میں سے عیسی بن ابان اور بعض معتزلہ کے نزدیک اجماع سے کتاب وسنت کا نسخ جائز ہے اور دلیل یہ ہے کہ مؤلفۃ القلوب کا مصارفِ زکوۃ میں سے ہونا کتاب اللہ سے ثابت ہے ، مگر حضرت ابوبکر کے زمانے میں