یہاں امام صاحب اور صاحبین سب کے نزدیک اقلِ مہر یعنی ایک ہزار واجب ہوگا،دوہزار واجب نہ ہوگا،صاحبین کے نزدیک تو بیع اور نکاح کا مسئلہ ایک ہی ہے البتہ امام صاحب کے نزدیک بیع اور نکاح میں فرق ہے،بیع میں ہزل کی صورت میں دوہزار ثمن واجب ہوتا ہے،اور نکاح میں ہزل کی صورت میں ایک ہزار واجب ہوگا،وجہِ فرق یہ ہے کہ بیع میں اگردو ہزار کو ثمن نہ قرار دیاجائے ،بلکہ ایک ہزار کو ثمن قرار دیاجائے تو دوسرے ایک ہزار کو قبول کرنے کی شرط ِفاسد ہوگی،اور شرطِ فاسد سے بیع فاسد ہوجاتی ہے،اور نکاح شرط ِفاسد سے فاسد نہیں ہوتا ہے، لہٰذا دو ہزار جس کا دونوںنے ہزل کیا ہے باطل نہ ہوگا ، کیونکہ یہاں موافقت فی الجد یعنی ایک ہزار پر نکاح ہونا اور موافقت فی الہزل یعنی دوہزار کو صرف مذاقاً ذکرکرنا دونوں جمع ہوسکتے ہیں، لہٰذا دوہزار میں ایک ہزار تو سنجیدگی سے کہا ہے ،وہ مہر بنے گا،اور دوسرا ایک ہزار جو مذاقاً کہا ہے وہ واجب نہ ہوگا،تو یہ مثال ہوئی مقدارِ مہر میں ہزل کی،__اور اگر میاں بیوی نے جنس ِمہر میں ہزل کیا جیسے اصل مہرتو دو ہزار درہم ہیںمگر لوگوں کے سامنے انہوں نے دوہزار دینار کا ذکر کیا، اب اگر دونوںہزل پر برقرار ہوں،یاخالی الذھن ہوں ،یاہزل میں دونوں کا اختلاف ہوجائے تو ان سب صورتوں میں مہر ِمثل واجب ہوتا ہے ،کیونکہ جو چیز اصل مہر ہے اس کا نکاح میں ذکرہی نہیں آیاتو گویا بغیر مہر کے نکاح ہوا،اور ایسی صورت میں مہرِ مثل واجب ہوتاہے،اور اگر ہزل سے اعراض پر دونوں کا اتفاق ہوجائے تو مسمی واجب ہوگا،برخلاف بیع کے، کیونکہ بیع بغیر ثمن کے صحیح ہی نہیں ہوتی ہے،بلکہ بیع فاسد ہوجاتی ہے،پس جنس ِثمن میں ہزل پر موافقت اور اصل ِبیع میں جدّ پر موافقت دونوں میں تطبیق نہیں ہوسکتی ہے،کیونکہ ہزل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ثمن نہ ہواوراصل بیع میں جد کاتقاضا ہے کہ وہ ثمن ہو،تو تعارض ہوگیا،لہٰذا بیع فاسد ہوجائے گی،اور نکاح میں دونوں موافقتو ں میں تطبیق ممکن ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
ولو ھذلا باصل النکاح:-اور اگر میاں بیوی نے اصلِ نکاح میں ہزل کیا ،اس طور پر کہ مردنے عورت سے کہا کہ میں مذاقاً لوگوں کے سامنے نکاح کرونگا،اور اصل میں ہمارے درمیان نکاح نہیں ہوگا ،پھر یہ دونوں خواہ ہزل ومذاق پر متفق ہوں،یامذاق کو نظر انداز کرنے پر متفق ہوں،یاہزل ومذاق ہونے میں دونوںکا اختلاف ہوجائے،یا دونوں عقد کے وقت ہزل سے خالی الذھن ہوں بہر صورت عقد لازم ہوجائے گا، اور ہزل کا اعتبار نہ ہوگا،یہی حکم طلاق کا بھی ہے،کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں مذاقاً تجھے طلاق دونگا ،اور حقیقت میںطلاق نہ ہوگی،__اسی طرح مولی نے غلام کو کہا میں تجھے مذاقاً آزاد کرونگا،حقیقت میں آزادی نہ ہوگی__ اسی طرح قاتل سے مقتول کے ولی نے قصاص کو مذاقاً معاف کردیا،یا یمین پر ہزل کیا، یمین سے مراد تعلیق ہے۔یعنی بیوی سے کہا کہ میں مذاق میںتجھے تعلیقاً طلاق دونگا، یا غلام سے کہا کہ میں مذاقاً تیری آزادی کو معلق کرونگا،یامذاقاً نذر مانی تو ان تمام صورتوںمیں عقد لازم ہوجائے گایعنی طلاق،عتاق واقع ہوگا،قصاص معاف ہوگا،قسم اور نذر واقع ہوجائے گی،اور