میں،اور اذا کے ساتھ مجازات لازم نہیں ہے ،بلکہ جواز کے درجہ میں ہے۔
------------------------------
تشریح :-حروف معانی میں ایک قسم حروفِ شرط ہیں،اور حروفِ شرط میں اِنْ اصل ہے،اس لئے کہ اِنْ شرط کے علاوہ معانی میں استعمال نہیں ہوتا ہے،برخلاف دوسرے کلماتِ شرط کے کہ وہ شرط کے علاوہ معانی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، اور کلمۂ اِنْ چونکہ شرط میں اصل ہے اور یہ حرف ہے، اس لئے اس کی رعایت میں تغلیباً تمام کلماتِ شرط کو حروفِ شرط کہدیا، حالانکہ ان میں بعض کلمات مثل اذا وغیرہ اسم ہیں۔
پھریہاں یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ اِنْ صرف شرط کے معنی میں نہیں آتا ،بلکہ نفی کے لئے بھی آتا ہے، کیونکہ وہ ان نافیہ ہوتا ہے، اور یہ شرطیہ ہے، دونوں الگ الگ قسمیں ہیں،اور یہاں اِنْ شرطیہ سے بحث ہے۔
ان ایسے امرِ معدوم پر داخل ہوتا ہے جس کا وجود یقینی نہ ہو، یعنی اس میں وجود کا بھی احتمال ہوتا ہے اور عدم کا بھی ، لہٰذا جس کا وجودِ یقینی ہو اس پر ان داخل نہ ہوگا پس ’’ان طلع الشمس‘ اور ان وقعت الواقعہ نہیں کہہ سکتے ، بلکہ اذا طلع الشمس اور اذا وقعت الواقعۃ کہا جائے گا، اور جس کا عدم یقینی ہو اس پر بھی ان داخل نہ ہوگا۔
واذا یصلح:-کلمات شرط میں ایک کلمہ ٔاذا ہے، نحاۃِ کوفہ کے نزدیک اذا ظرف اور شرط دونوں کے لئے مساوی طور پر مشترک ہے، امام ابوحنیفہؒ کا بھی یہی قول ہے، کلمہ اذا جب شرط کے لئے ہوگا تو اس کے تین اثر ظاہر ہوں گے (۱)کلام کا پہلا حصہ سبب اور دوسرا مسبب ہوگا (۲)اذا کے بعد فعل مضارع مجزوم ہوگا (۳)اذا کی جزاء پر فاداخل ہوگا، اور اگر اذا ظرفیہ ہوتو مذکورہ تین چیزوں میں سے کوئی چیز نہ ہوگی، شرط کے لئے استعمال کی مثال ۔
وَاسْتَغْنِ مَااَغْنَاکَ رَبُّکَ بِالْغِنٰی ٭ وَاِذَا تُصِبْکَ خَصَاصَۃٌ فَتَحَمَّلْ
ترجمہ:-اے مخاطب قناعت کے ساتھ رہا کر جب تک تجھے تیرا پروردگار غنا اور خوشحالی میں رکھے ، اور جب تجھ پر فقر وفاقہ کی مصیبت آپڑے تو برداشت کر۔
دوسرے مصرعہ میں اذا شرط کے لئے ہے چنانچہ شرط یعنی فقر وفاقہ لاحق ہونا سبب ہے اور جزا یعنی تحمل مسبب ہے، وقت کے لئے اذا کے استعمال کی مثال۔
وَاِذَا تَکُوْنُ کَرِیْھَۃً اُدْعٰی لَھَا ٭ وَاِذَا یُحَاسُ الْحِیْسُ یُدْعٰی جُنْدُبُ
ترجمہ:-اور جب کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو اس کی مدافعت کے لئے مجھے بلایا جاتا ہے، اور جب لذیذ کھانا تیار کیا جاتا ہے تو جندب کو بلایا جاتا ہے۔
اس شعر کے دونوں مصرعوں میں مضارع کا مجزوم نہ ہونا دلیل ہے کہ اذا شرط کے لئے نہیں ہے بلکہ وقت اور