داخل نہیں ہے ، تو دو صورتیں ہیں ،یا تو وہ امر شی میں مؤثر ہوگا یا نہیں،اگر مؤثر ہے تو علت ہے،اور اگر مؤثر نہیں ہے ،تو اس کی بھی دوصورتیں ہیں ،یا تو اس شی کی طرف فی الجملہ موصل ہوگا یا نہیں، اول سبب ہے،اور اگر موصل نہیں تو وہ شی اس پر موقوف ہوگی یا نہیں اول شرط ہے ،ثانی علامت ہے ،لیکن اول یعنی رکن سے مراد حکم ہے ،تو وہ متعلقات ِحکم سے خارج ہے لہٰذا مذکورہ چار چیزیں باقی رہ گئیں ۔
پھر سبب کی تین قسمیں ہیں،(۱)سبب ِحقیقی (۲)سبب فیہ معنی العلۃ(۳)سببِ مجازی ۔
سبب کے لغوی معنی ہیں جو مقصود تک پہنچائے ،راستہ کوبھی اسی لئے سبب کہتے ہیں کہ وہ مقصود تک پہنچاتا ہے ،اور سبب کے اصطلاحی معنی یہ ہے کہ سبب ِحقیقی وہ ہے جو حکم تک پہنچنے کا ذریعہ ہو،مگر حکم کا وجود اور وجوب اس کی طرف منسوب نہ ہو ، اور نہ اس سبب میں کسی بھی طرح علت کے معنی متصور ہوں ،لیکن حکم اور سبب کے درمیان ایک ایسی علت ہونی چاہیے، جو سبب کی طرف منسوب نہ ہو،طریقًا الی الحکمکی قید سے علامت نکل گئی ،کیونکہ علامت حکم تک پہنچاتی نہیں، صرف حکم پر دلالت کرتی ہے ،اور سبب ِحقیقی کی قید سے سبب ِمجازی خارج ہوگیا، جیسے یمین کفارہ کا سببِ مجازی ہے، اور وقت نماز کے لئے اور شہود شہر روزہ کے لئے اور بیت اللہ حج کے لئے سببِ مجازی ہے،حکم کا وجوب سبب کی طرف منسوب نہ ہو__ اس قید سے علت خارج ہوگئی، کیونکہ علت کی طرف حکم کا وجوب منسوب ہوتا ہے ،اور نہ حکم کا وجود منسوب ہو__ اس قید سے شرط نکل گئی، کیونکہ شرط کی طرف حکم کا وجود منسوب ہوتا ہے ۔
بہرحال سبب ِحقیقی وہ ہے جو حکم تک پہنچائے،مگر حکم کا وجود اور وجوب اس سبب کی طرف منسوب نہ ہو ،اور نہ اس سبب میں علت کے معنی متصور ہوں ،لیکن اس سبب اور حکم کے درمیان ایک ایسی علت ہو، جو سبب کی طرف منسوب نہ ہو ۔
سبب ِحقیقی کی مثال جیسے چور کی کسی کے مال پر رہنمائی کرنا ،تا کہ وہ مال چرائے،اب اس چور نے چوری کی تو رہنمائی کر نے والے پر تاوان نہ آئے گا،کیونکہ رہنمائی کرنا اور پتہ بتانا یہ سببِ محض ہے، علت نہیں ہے ،اس کی طرف چوری کا وجود اور وجوب منسوب نہیں ہے یعنی رہنمائی کرنا نہ فعلِ سرقہ کو واجب کرتا ہے نہ موجود کرتا ہے،اور نہ فعلِ سرقہ میں یہ مؤثر ہے،__البتہ رہنمائی (سبب)اور فعل سرقہ (حکم)کے درمیان چور کا فعل ہے جو علت ہے،لہٰذا ضمان علت پر یعنی چور پر آئے گا نہ کہ سبب پر یعنی رہنمائی کرنے والے پر۔
فان اضیفت الی السبب:-سبب کی دوسری قسم ’’ سبب فیہ معنی العلۃ‘‘ میں سبب اور حکم کے درمیان جو علت ہے وہ سبب کی طرف منسوب ہو،تو یہ سبب فی معنی العلۃ ہوگا،یعنی یہ سبب علت کے حکم میں ہوگا،اس کو علۃالعلت بھی کہتے ہیں ،کیونکہ حکم منسوب ہے علت کی طرف اور علت منسوب ہے سبب کی طرف تو گویا سبب علۃ العلت بن گیا۔