تقاضا تو نہیں کرتاہے، البتہ امر تکرار کامحتَمل ہے یعنی امر میں تکرار کا احتمال ہوتا ہے ،موجب اور محتَمل میں فرق یہ ہے کہ موجب بغیر نیت کے ثابت ہوجاتا ہے اور محتمل بغیر نیت کے ثابت نہیں ہوتا ہے۔
امام شافعی ؒ کی دلیل یہ ہے کہ امر کا صیغہ اِضْرِبْ مختصر کیا گیا ہے ،اصل عبارت ہے اَطْلُبُ مِنْکَ ضَرْباً اس کو مختصر کرکے اِضْرِبْ کہا ،اور اطلب منک ضرباً میں ضرب مصدر نکرہ ہے ،پس اس کا مختصر جو اضرب ہے وہ بھی ضرب نکرہ کو شامل ہے اور نکرہ اگرچہ خاص ہوتا ہے مگر عموم کا احتمال رکھتا ہے لہٰذا امر میں تکرار کا احتمال رہے گا ۔
ابو اسحٰق اسفرائینی کی دلیل یہ ہے کہ جب حج کی فرضیت ہوئی تو حضورﷺنے ارشاد فرمایا اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ الْحَجُّ تو اقرع ابن حابس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اَلِعَامِنَا ھٰذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَمْ لِلْاَبَدِ کیا اسی سال یا ہر سال فرض ہے ، اقرع بن حابس نے امر سے تکرار کو سمجھا ،جب کہ وہ صاحب ِزبان ہے،ورنہ یہ سوال نہ کرتے،معلوم ہوا کہ امر کا موجب تکرار ہے ۔
احناف کی دلیل مصنف ؒ بیان کررہے ہیں کہ لفظ امر فعل کو مصدر سے طلب کرنے سے مختصر کیا گیا ہے یعنی اِضْرِبْ ، اَطْلُبُ مِنْکَ الضَّرْبسے مختصر کیا گیا ہے،تو امر میں مصدر ملحوظ ہے اور مصدر جس کو مصنف نے لفظ الفعل سے تعبیر کیا ہے فرد ہے اور فرد عدد کا احتمال نہیں رکھتا ہے،کیونکہ فرد اور عدد میں منافات ہے ،معلوم ہوا کہ امر میں نہ تکرار ہوتی ہے اورنہ تکرار کا احتمال ہوتا ہے ۔
ولھذا قلنا:-مصنف کہتے ہیں کہ امر میں تکرار اور عدد کا احتمال نہیں ہوتا ہے،اس لئے اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا طلقی نفسک تو اپنے آپ پر طلاق واقع کر ،اور کوئی نیت نہیں کی تو عورت صرف ایک طلاق واقع کرسکتی ہے اور اگر شوہر نے تین طلاقوں کی نیت کی تو اس کو تین طلاق واقع کرنے کا حق ہوگا ،لیکن اگر شوہر دو کی نیت کرتا ہے تو اس کی نیت معتبر نہ ہوگی اور عورت کو دو طلاق واقع کرنے کا حق نہ ہوگا، اس لئے کہ طلقی مختصر کیا گیا ہے اور وہ مصدر تطلیق پر مشتمل ہے اور مصدر فرد ہوتا ہے ،اس میں عدد کا احتمال نہیں ہوتا ہے،لہٰذا ایک ہی طلاق وہ واقع کرسکتی ہے ، کیونکہ ایک فرد حقیقی ہے ،اور اگر شوہر نے تین کی نیت کی ہے تو وہ تین بھی واقع کرسکتی ہے کیونکہ تین پوری جنس کا مجموعہ ہے ،اور مجموعہ حکما فرد ہی کہا جاتا ہے ،لہٰذا تین فرد حکمی ہے عرض فرد کی دو قسمیں ہیں فردِ حقیقی جیسے حقیقۃً ایک اور فرد حکمی یعنی پوری جنس کا مجموعہ ، یہ بھی حکماً فرد ہی ہے __تو امر میں فرد حقیقی تو اس کا موجب ہوتا ہے جو بغیر نیت کے ثابت ہوجاتا ہے اور فرد حکمی امر کا محتمل ہوتا ہے جو نیت سے ثابت ہوجائے گا ،البتہ دو طلاق مراد نہیں ہوسکتی ہے،اس لئے کہ دو عدد ہے نہ فرد حقیقی ہے نہ حکمی ،ہاں اگر باندی سے کہا تو دو کی بھی نیت کرسکتا ہے اس لئے کہ باندی کے حق میں دو طلاقیں پوری جنس طلاق ہے یعنی فرد حکمی ہے۔