میں واجب معین مال مثل بکری وغیرہ یہ پورے طور پر وعدۂ رزق کے پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتاہے،البتہ اس کی قیمت میںوعدۂ رزق کے پورا ہونے کی صلاحیت ہے،تو معلوم ہوا کہ شارع کا مقصود زکوۃ میں معین مال کا وجوب نہیں ہے،بلکہ اس کی قیمت مقصود ہے ،اورشارع کی طرف سے معین چیزکے استبدال کی اجازت ہے ،اور رہا زکوۃ کے باب میں معین چیز کا تذکرہ مثل شاۃ وغیرہ تو یہ مقدارِ واجب کا اندازہ کرنے کے لئے بیان کیا گیا ہے، الحاصل حدیث میں شاۃکی تغییر یعنی اس کی قیمت کا جواز یہ دلالت النص یا قتضاء النص سے ہوا ہے،نہ کہ تعلیل سے ،لہٰذا اعتراض دفع ہوگیا۔
وانما التعلیل لحکم شرعی:-ایک اعتراض کا جواب ہے کہ مذکورہ مسئلہ میںتغییر حکم ِجب دلالت النص سے ہوا تو پھر تعلیل لغو ہوگئی ،اس کا کیا فائدہ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیل سے دوسرا حکم شرعی ثابت ہورہا ہے ،وہ یہ ہے کہ جس محل کو عینِ شاۃ کا بدل قرار دیا گیا ہے وہ محل اس کی صلاحیت بھی رکھتا ہو کہ اس کو فقیر کی طرف پھیرا جاسکے اور فقیر اس میں تصرف بھی کرسکتے درانحالیکہ اس محل پر ابتداء ً تو اللہ کا قبضہ ہوگا اس کے بعد دائمی قبضہ فقیر کا ہوگا ۔
خلاصہ یہ کہ یہاں دو حکم ہے (۱) استبدال یعنی شاۃ کی جگہ قیمت کا جواز (۲) شاۃ کے بدلہ ایسی چیز دینا جو فقیر کی ضرورت پوری کرسکے اور شاۃ کا بدل بن سکے ،لہٰذا اگر زکوۃ کی ادائیگی کے لئے کوئی فقیر کو چوپایہ پر سوار کرے تو اس سے زکوۃ ادا نہ ہوگی ،کیونکہ یہاں فقیر کا قبضہ مفقود ہے لہٰذا یہ شاۃ کا بدل نہیں بن سکتا ،پس پہلا حکم دلالت النص سے ثابت ہوا اور دوسرا حکم تعلیل سے ثابت ہوا۔
وَھُوَنَظِیْرُ مَاقُلْنَا اِنَّ الْوَاجِبَ اِزَالَۃُ النَّجَاسَۃِ وَالْمَاءُ اٰلَۃٌ صَالِحَۃٌ لِلْاِزَالَۃِ وَالْوَاجِبَ تَعْظِیْمُ اللہِ تَعَالٰی بِکُلِّ جُزْءٍ مِنَ الْبَدَنِ وَالتَّکْبِیْرُ اٰلَۃٌ صَالِحَۃٌلِجَعْلِ فِعْلِ الِلِّسَانِ تَعْظِیْمًا وَالْاَ فْطَارُ ھُوَ السَّبَبُ وَالْوِِقَاعُ اٰلَۃٌصَالِحَۃٌ لِلْفِطْرِ وَبَعْدَ التَّعْلِیْلِ یَبْقَے الصَّلَاحِیَۃُعَلٰی مَا کَان قَبْلَہٗ
ترجمہ:-اور وہ (اونٹوںکی زکوۃ میں مطلق مال واجب ہونا)اسکی نظیر ہے جو ہم نے کہاہے کہ واجب نجاست کو زائل کرنا ہے،اور پانی ایسا آلہ ہے جو نجاست کو زائل کر نے کی صلاحیت رکھنے والا ہے، اور واجب اﷲتعالیٰٰ کی تعظیم ہے بدن کے ہرہر جزء سے اورتکبیر ایک ایسا آلہ ہے جو زبان کے فعل کو تعظیم بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ہے اورافطاروہ سبب ہے،اورجماع ایسا آلہ ہے جو فطر کی صلاحیت رکھنے والاہے،اور تعلیل کے بعد صلاحیت باقی رہتی ہے