بَابُ الْقِیَاسِ
وَھُوَیَشْتَمِلُ عَلٰی بَیَانِ نَفْسِ الْقِیَاسِ وَشَرْطِہٖ وَرُكْنِہٖ وَحُكْمِہٖ وَدَفْعِہٖ اَمَّا الْاوَّلُ فَالْقِیَاسُ ھُوَالتَّقْدِیْرُ لُغَۃً یُقَالُ قِسِِ النَّعْلَ بِالنَّعْلِ اَیْ قَدِّرْہٗ بِہٖ وَاجْعَلْہٗ نَظِیْرَالْاٰخَرِوَالْفُقَھَاءُ اِذَااَخَذُوْاحُكْمَ الْفَرْعِ مِنَ الْاَصْلِ سَمَّوْاذٰلِكَ قِیَاسًا لِتَقْدِیْرِھِمْ الْفَرْعَ بِالْاَصْلِ فِی الْحُکْمِ وَالْعِلَّۃِِِ۔
ترجمہ:-یہ قیاس کا باب ہے،اور یہ مشتمل ہے نفسِ قیاس کے بیان پراور ا سکی شرط پر اور اسکے رکن پراوراسکے حکم پراوراسکے دفع پر،بہر حال پہلا پس قیاس وہ اندازہ کرناہے لغت کے اعتبارسے ،کہاجاتا قِسِ النَّعْلَ بِالنِّعْلِ یعنی اس کواس کے ساتھ ناپ دے اوراس کودوسر ے کی نظیر بنادے ،اورفقہاء جب فرع کا حکم لیتے ہیں اصل سے تو اس کا نام رکھتے ہیں قیاس ،ان کے اندازہ کرنے(ناپنے)کی وجہ سے فرع کو اصل کے ساتھ حکم اور علت میں۔
------------------------------
تشریح:-مصنفؒ قیاس کاباب شروع کررہے ہیں ،اس میں پانچ چیزیں خاص طور سے بیان کریں گے (۱)قیاس کی تعریف(۲) قیاس کی شرط (۳)قیاس کا رکن (۴) قیاس کا حکم( ۵) قیاس کی دفع یعنی عِللِ مؤ ثرہ پر شوافع کے اعتراضات اور اس کے جوابات،
سب سے پہلے قیاس کی لغوی اوراصطلاحی تعریف کررہے ہیں،فرماتے ہیںکہ قیاس کے لغوی معنی ہے اندازہ کرنا، ناپنا،جیسے کہا جاتا ہے قسِ النعل بالنعل ایک جوتے کو دوسرے جوتے کے ساتھ اندازہ کر یعنی اس جوتے کو دوسرے جوتے جیسا بنا ،اور مصنف ؒاصطلا حی تعریف کررہے ہیںکہ فقہاء جب اصل یعنی مقیس علیہ کا حکم فرع یعنی مقیس کے لئے ثا بت کرتے ہیں،دونوں کے درمیان مشترک علت کی وجہ سے، تو ا س طرح اصل سے فرع کے لئے حکم لینے اور ثابت کرنے کو قیاس کہتے ہیں،کیونکہ انہوں نے حکم اور علت میںفرع کا اصل کے ساتھ اندازہ کیا، موازنہ کیا،گویا انہوں نے حکم و علت میں فرع کواصل سے ناپاہے،تو اس سے قیاس کے لغوی اور اصطلاحی معنی میںمناسبت بھی ظاہر ہوگئی ۔
وَاَمَّا شَرْطُہٗ فَاَنْ لَا یَكُوْنَ الْاَصْلُ مَخْصُوْصًا بِحُكْمِہٖ بِنَصٍّ اٰخَرَ كَقَبُوْلِ شَھَادَۃِ خُزَیْمَۃَؓ وَحْدَہٗ كَانَ حُكْمًاثَبَتَ بِالنَّصِّ اِخْتِصَاصُہٗ بِہٖ كَرَامَۃً لَہٗ وَاَنْ لَا یَکُوْن الْاَصْلُ مَعْدُوْلًا بِہٖ عَنِ الْقِیَاسِ کَایْجَابِ الطَّھَارَۃِ بِالْقَھْقَھْۃِفِی