بَابٌ فِیْ بَیَانِ اَقْسَامِ السُّنَّۃِ
اِعْلَمْ اَنَّ سُنَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ جَامِعَۃٌ لِلْاَمْرِ وَالنَّھْیِ وَالْخَاصِ وَالْعَامِ وَسَائِرِ الْاَقْسَامِ الَّتِیْ سَبَقَ ذِکْرُھَا فَکَانَتِ السُّنَّۃُ فَرْعًا لِلْکِتَاب فِیْ بَیَانِ تِلْکَ الْاَقْسَامِ بِاَحْکَامِھَا وَھٰذَا الْبَابُ لِبَیَانِ مَا یَخْتَصُّ بِہِ السُّنَنُ فَنَقُوْلُ السُّنَّۃُ نَوْعَانِ مُرْسَلٌ وَمُسْنَدٌ فَالْمُرْسَلُ مِنَ الصَّحَابِیْ مَحْمُوْلٌ عَلَی السَّمَاعِ وَمِنَ الْقَرْنِ الثَّانِی وَالثَّالِثِ عَلٰی اَنَّہٗ وَضَحَ لَہٗ الْاَمْرُ وَاِسْتَبَانَ لَہُ الْاِسْنَادُ وَھُوَ فَوْقَ الْمُسْنَدِ فَاِنَّ مَنْ لَمْ یَتَّضِحْ لَہٗ الْاَمْرُ نَسَبَہٗ اِلٰی مَنْ سَمِعَہٗ مِنْہُ لِیُحَمِّلَہٗ مَا تَحَمَّلَ عَنْہُ لٰکِنَّ ھٰذَا ضَرْبُ مَزِیَّۃٍ یَثْبُتُ بِالْاِجْتَھَادِ فَلَمْ یَجُزِ النَسْخُ بِمِثْلِہٖ وَاَمَّا مَرَاسِیْلُ مَنْ دُوْنَ ھٰؤلَاءِ فَقَدْ اِخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّااَنْ یَرْوِیَ الثِّقَاتُ مُرْسَلَہٗ کَمَا رَوَوْا مُسْنَدَہٗ مِثْلُ اِرْسَالِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَسَنِؒ وَاَمْثَالِہٖ وَقَالَ الشَّافِعِیُّؒ لَااَقْبَلُ اِلَّامَرَاسِیْلَ سَعِیْدِبْنِ الْمُسَیَّبِٖؓ فَانِّی تَتَبَّعْتُھَا فَوَجَدْتُھَا مَسَانِیْدَ۔
ترجمہ:-یہ باب ہے سنت کی قسموں کے بیان میں __ جان تو کہ رسول اللہﷺ کی سنت (حدیث) شامل ہے امر، نہی ،خاص،عام اور ان تمام اقسام کو جن کا ذکر پہلے گذر چکا ہے، توسنت ان تمام اقسام کو ان کے احکام کے ساتھ بیان کرنے میں کتاب کی فرع ہے، اور یہ باب اس چیز کو بیان کرنے کے لئے ہے جس کے ساتھ سنتیں (احادیث) مخصوص ہیں، پس ہم کہتے ہیں کہ سنت کی دو قسمیں ہیں، مرسل اور مسند ، پس صحابی کی مرسل حدیث سماع پر محمول ہے، اور قرن ِثانی اور ثالث (تابعی اور تبع تابعی) کی حدیث اس بات پر محمول ہوگی کہ اس کے لئے معاملہ واضح ہوگیا اور اس کے لئے سند ظاہر ہوگئی ، اورمرسل مسند سے بڑھ کرہے، اس لئے کہ جس کے لئے حدیث کا معاملہ واضح نہیں ہوتاوہ اس کو اس شخص کی طرف منسوب کردیتا ہے ،جس سے اس نے حدیث کو سنا ہے ،تاکہ راویٔ ثانی راویٔ اول کے سروہ بوجھ ڈالڈے جو راویٔ ثانی نے راویٔ اول سے اٹھایا ہے، لیکن زیادتی (فضیلت) کی یہ قسم اجتہاد سے ثابت ہوتی ہے، تو اس کے مثل سے نسخ جائز نہ ہوگا، اوران حضرات کی مرسل احادیث جو ان سے نیچے کے ہیں تو اس میں اختلاف ہے مگر یہ کہ ثقہ حضرات اس کی مرسل کو ایسے روایت کریں جیسے اس کی مسندکو روایت کرتے ہیں، جیسے محمد بن حسن اور ان کے ہم مثلوں کی مرسل ، اور امام شافعیؒ نے فرمایا کہ میں نہیں قبول کرونگا مگر سعید بن مسیب کی مراسیل کو اس لئے کہ میں نے ان کا تتبع (تلاش وتفتیش) کیا تو میں نے ان کو مسانید پایا ۔