پس یہاں چار امور کی ضرورت ہوگی(۱)ایک تو مقتضی (اسم فاعل ) ہوا،اور یہ کلام منصوص علیہ ہے کیونکہ یہ اپنے صحت کے لئے اس زیادتی کا تقاضا کرتا ہے،(۲)دوسرا مقتضی (اسم مفعول ) ہوا،اور یہ وہ زائد عبارت ہے ،جو مقدر مانی گئی ہے،کیونکہ نص نے اس کا تقاضا کیا ہے ،(۳) تیسرا اقتضا یعنی کلام منصوص علیہ کا اس زیادتی کا تقاضا کرنا اس کا نام ہے اقتضاء۔(۴) مقتضٰی کا حکم یعنی اس کی مراد جو ثابت ہے۔
مثال سے سمجھو ،کسی نے کہا اَعْتِقْ عَبْدَکَ عَنِّی بِاَلْفٍ -تو اپنے غلام کومیری طرف سے ایک ہزار کے بدلہ میں آزاد کردے ،اس نے آزاد کردیا تو غلام آمر کی طرف سے آزاد ہوگا ،اور آمر کے ذمہ ایک ہزار روپئے ثمن واجب ہوگا، تو مثال میں آمر کا قول تقاضا کرتا ہے بیع کا،کیونکہ اس کے بغیر آمر کا قول صحیح نہیں، اس لئے کہ وہ آزاد کرنے کا حکم دے رہا ہے،اور حدیث ہے لاعتق فیما لایملکہ ابن آدم -بغیر ملکیت کے عتق نہیں ہوتا __لہٰذا آمر کے کلام کو شرعا صحیح کرنے کے لئے بیع کو مقدر ماننا پڑے گا ،گویا اس نے یوں کہا تو مجھے غلام ایک ہزار کے بدلہ بیچ دے پھر میری طرف سے وکیل بالا عتاق ہو جا__ تو آمر کا قول اعتق عبدک عنی بالف یہ مُقْتضِی (اسم فاعل )ہوا اور بیع جو مقدر مانی گئی وہ مقتضٰی (اسم مفعول ) ہوگا ،اور غلام کی ملک جو آمر کے لئے ثابت ہوگی وہ بیع کا حکم ہوگا پس مقتضی(بالفتح) یعنی بیع اپنے حکم یعنی ملک کے ساتھ مل کر مقتضی (بالکسر ) کا حکم بنے گا یعنی بیع اور ملک ہوگیا اوراس پر اعتاق ہورہا ہے پس بیع اور ملک دونوں اعتاق کی طرف منسوب ہیں ،تو اس مثال میں آمر کا قول مقتضی (بالکسر) ہے بیع مقتضی (بالفتح ) ہے اور کلام منصوص علیہ یعنی آمر کے قول کا بیع کا تقاضا کرنا اس کا نام اقتضا ء ہے ،اور بیع سے جو ملک ثابت ہوئی وہ مقتضٰی (بالکسر) کا حکم ہوگا۔
والثابت بہ یعدل:-مصنف ؒ کہتے ہیں کہ اقتضاء النص سے ثابت ہونے والا حکم ایسا ہی قطعی ہوتا ہے جیسے دلالت النص سے ثابت ہونے والا حکم قطعی ہوتا ہے البتہ تعارض کے وقت دلالت النص کو مقتضٰی اور اقتضاء النص پر ترجیح حاصل ہوگی ،یعنی دلالت النص سے ثابت شدہ حکم پر عمل کرینگے اور مقتضی کو یعنی اقتضاء النص سے ثابت ہونے والے حکم کو چھوڑ دینگے ۔
تعارض کی مثال :- ام قیس رضی اللہ عنہا نے حضورﷺسے حیض کے خو ن کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جاوے تو آپﷺ نے فرمایا اغسلیہ بالماء،پانی سے اس کو دھولو __اس حدیث کی اقتضاء النص سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ پانی کے علاوہ دوسری سیال چیزوں سے نجاست کو دھونا جائز نہیںہے ،کیونکہ آپ ﷺنے پانی سے دھونا کہا ہے،لہٰذا پانی سے دھونے کے حکم کا صحیح ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ پانی کے علاوہ سے دھونا جائز نہ ہو__ تو اقتضاء النص سے معلوم ہوا کہ پانی کے علاوہ دوسری سیال چیزوں سے نجاست کو دھونا جائز نہیں