کہتے ہیں عتق ثابت کرنے کو ،تو عتق اعتاق کا اثر ہے ،او ر اثر یعنی عتق میں تجزی نہیں ہے، تو مؤثر یعنی اعتاق میں بھی تجزی نہیں ہے ۔
وقال ابو حنیفۃ:-امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ اعتاق میں تجزی ہوتی ہے ،اگر چہ عتق میں تجزی نہیں ہے ،اور دلیل یہ ہے کہ اعتاق کہتے ہیں ازالۂ ملک کو ،اعتاق رقیت کو ساقط کرنے یا آزادی کو ثابت کرنے کا نام نہیں ہے،کیونکہ رقیت اور آزادی یہ اللہ کا حق ہے ،اس میں بندہ کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہے ،کہ وہ رقیت کو ساقط کرے یا آزادی کو ثابت کرے ،بندہ صرف اپنے حق میں تصرف کرسکتا ہے اور ملک اس کا حق ہے ،تو جب بندہ اعتاق کرے گا تو اس کا مطلب ہوا ازالۂ ملک کرنا اور ملک میں بالاتفاق تجزی ہے،تو ازالۂ ملک میں بھی تجزی ہوگی،الغرض اعتاق نام ہے ملک زائل کرنے کا ،یہ الگ بات ہے کہ ازالۂ ملک کے نتیجہ میں رقیت زائل ہوجاتی ہے ، اور زوال رقیت کے واسطہ سے بالاخر عتق ثابت ہوجاتا ہے۔
بہرحال اعتاق ملک ِمتجزی کو زائل کرنے کا نا م ہے، (جس کے نتیجہ میں اس کے ساتھ عتق کا حکم متعلق ہوجائے گا،یعنی ملک زائل کرنے سے عتق کا ثبوت ہوجائے گا )مگر اس ازالۂ ملک کے ساتھ جو حکمِ عتق متعلق ہوگاوہ پوری ملک کے ساقط ہونے کے ساتھ متعلق ہوگایعنی ازالۂ ملک میں ملک اگر چہ متجزی ہے مگر اس پرعتق جو غیر متجزی ہے وہ اس وقت ثابت ہوگا جب غلام سے پوری ملک زائل ہوجائے ،پس اگر کسی نے آدھا غلام آزاد کیا یعنی نصف ملک کو زائل کیا تو عتق ثابت نہ ہوگا کیونکہ عتق کی علت پوری ملک کو زائل کرنا ہے ،اور یہاں آدھی علت پائی گئی،لہٰذا یہ نصف علت تکمیلِ علت تک موقوف رہے گی اور جب علت مکمل ہوجائے گی یعنی پوری ملک زائل ہوجائے گی تو عتق ثابت ہوجائے گا۔
مصنف کہتے ہیںکہ ملک ِمتجزی کے ازالہ کا علت ہونا عتق غیر متجزی کے لئے،یہ ایسا ہی ہے جیسے اعضاء وضو کا دھونا (جو متجزی ہے)علت ہے اباحت ِصلوۃ کے لئے (جو غیر متجزی ہے)پس اگر کسی نے چہرہ یاہاتھ دھوئے تو طہارت ثابت ہوجائے گی مگر اباحت ِ صلوۃ ابھی نہ ہوگا(یعنی ابھی نماز نہیں پڑھ سکتا )اباحت ِصلوۃ کامل طہارت پر ہوگی اور وہ پورا وضو ہے،تو یہاں علت یعنی غسل اعضاء وضو متجزی ہے،اورحکم یعنی اباحت ِصلوۃ غیر متجزی ہے۔
اسی طرح جیسے اعداد طلاق میں تجزی ہے،ایک طلاق بھی ہوسکتی ہے ،دوبھی اور تین بھی،مگر اس کا حکم حرمت ِغلیظہ یہ غیر متجزی ہے،یعنی حرمت ِغلیظہ مکمل تین طلاق سے ہوگی ،اسی طرح اعتاق میں جو ازالۂ ملک ہے اس میں تجزی ہے مگراس کا جو حکم عتق ہے وہ غیر متجزی ہے،جو ملک کے کامل ازالہ کے بغیر ثابت نہ ہوگا۔
خلاصۂ کلام یہ ہواکہ صاحبین کے نزدیک اعتاق کا مقصد اصلی اثبات ِعتق ہے ،اور ازالۂ ملک ضمناً ہے ،اس لئے