اسی لئے عورت شوہر کے انتقال کے بعد اپنی عدت میں اس کو غسل دے سکتی ہے،اس لئے کہ شوہر مالک ہے،ملکِ نکاح کا،لہٰذا عدت ختم ہونے تک ملکیت باقی رہے گی،خاص کر ان چیزوں میں جس میںشوہر کو احتیاج ہے، اور غسل اس کی احتیاج وضرورت ہے،ہاں اگر بیوی مرگئی تو شوہر اس کو غسل نہیں دے سکتا ہے،کیونکہ بیوی مملوکہ ہوتی ہے،اورموت کی وجہ سے مملوکیت کی اہل نہیں رہی ۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ شوہر بھی اپنی مرحومہ بیوی کو غسل دے سکتا ہے جیسے بیوی شوہر کو دے سکتی ہے، __ میت کا حق بقدر حاجت باقی رہتا ہے، اس لئے مقتول کا حق دیت سے متعلق ہوجائے گاجب کہ قصاص مال سے بدل جائے،یعنی اگر کسی نے عمداً کسی کو قتل کردیا تو قاتل پر قصاص ہے، لیکن مقتول کے ورثہ نے مال کی کسی مقدار پر صلح کرلی،یابعض ورثہ نے قصاص معاف کردیا،اور بعض مال واجب کیا تو اس مال کاوہی حکم ہوگاجو میت کے دوسرے اموال کا ہے،چنانچہ اس مال دیت سے مقتول کا قرض ادا کیاجائے گا،اس کی وصیت نافذ ہوگی پھر جو بچے گا وہ ورثہ کو ملے گا۔
وان کان الاصل:-احکام ِدنیاکی چوتھی قسم کا بیان ہے،یعنی وہ حق جو میت کی حاجت پوری کرنے کی صلاحیت نہ رکھے، جیسے قصاص ، یہ میت کی حاجت پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے، کیوں کہ قصاص اولاً ورثہ کے لئے ثابت ہوتا ہے،ایسا نہیں ہے کہ اولاً میت کے لئے ثابت ہو، پھر منتقل ہوکر ورثہ کے لئے ثابت ہو،کیونکہ قصاص مقتول کی زندگی کے ختم پر واجب ہوتا ہے،اور موت سے اس کی اہلیت ہی نہیں رہتی، پس قصاص سے اس کی کوئی حاجت متعلق نہیں ہوتی ہے،حالانکہ اس وقت اس کے لئے وہی چیز ثابت ہوگی جس کی طرف اس کی حاجت ہو،لہٰذا قصاص ابتداء ً ورثہ کے لئے ہوگا،کیونکہ قصاص کا مقصد قاتل کے شر کودفع کرنا، اور اس سے بدلہ لینا ہے، جس سے مقتول کے اولیاء کادل ٹھنڈا ہو،تو قصاص کی حاجت ورثہ سے متعلق ہوئی، نیز قاتل نے مقتول کو قتل کرکے اولیاء کے حق میں جنایت کی کہ مقتول کی زندگی سے اولیاء کا انتقاع ختم کردیا،اس جہت سے بھی قصاص کی حاجت ورثہ سے متعلق ہوئی،مگر چونکہ قصاص ایسے سبب سے ہواہے جو مُورِث کے لئے منعقد ہواہے،کیونکہ مُورِث کی جان کابدلہ ہے،تو اس جہت سے جنایت مقتول کے حق میں ہوئی، اس لئے اگرمرنے سے پہلے مقتول قاتل کو معاف کرناچاہے تو معاف کرسکتا ہے،اور چونکہ اصلاًقصاص ورثہ کے لئے مشروع ہوا ہے ،اس لئے ورثہ زخمی مقتول کی موت سے پہلے قاتل کو معاف کرسکتے ہیں۔
بہرحال قصاص ابتداء ً ورثہ کے لئے ثابت ہوتا ہے،البتہ اگریہ قصاص مال سے بدل جائے یعنی قصاص کے بدلہ میں مقتول کے اولیاء قاتل سے مال لینا طے کریں تو اب حکم بدل جائے گا، اب اس مال ودیت کے ساتھ اولاًمیت کا