پھر یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ علتِ کاملہ فعل سے مقدم نہیں ہوتی بلکہ فعل کے ساتھ ہوتی ہے ، یعنی علتِ کاملہ اور حکم دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے اہل سنت والجماعت کے نزدیک استطاعت یعنی قدرتِ حقیقیہ بمعنی توفیق الٰہی فعل کے ساتھ ہوتی ہے ،البتہ قدرت بمعنی،صحتِ اسباب وآلات فعل پر مقدم ہوتی ہے جو مدارِ تکلیف ہے۔
معتزلہ کہتے ہیں استطاعت قبل الفعل اور مع الفعل ہوتی ہے ،لیکن یہ درست نہیں کیونکہ استطاعت ایک عرض ہے جو اللہ تعالیٰ حیوان میں پیدا فرماتا ہے جس سے حیوان اپنے افعالِ اختیار یہ کرتا ہے ،اور یہ بات مسلم ہے کہ عرض کی بقاء محال ہے ،تو اگر اس کو قبل الفعل مانتے ہیں تو فعل کا وقوع بغیر استطاعت کے لازم آئے گا،__البتہ معتزلہ کی طرف سے جو تکلیف مالا یطاق کا اعتراض لازم آتا ہے کہ بندہ کے پاس اگر قبل الفعل استطاعت نہ ہو ،توتکلیف مالایطاق ہے ،تو اس کا جواب یہ ہے کہ مدارِ تکلیف صحتِ اسباب وآلات ہے جو فعل پر مقدم ہے،استطاعت نہیں ہے،بہرحال جیسے استطاعت فعل کے ساتھ ہوتی ہے اسی طرح علت ِحقیقیہ اور حکم بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔
فاذا تراخی الحکم:-اگر کسی مانع کی وجہ سے حکم علت سے مؤخر ہوگیا(یعنی علت کی پانچوں قسم)جیسے بیعِ موقوف یعنی بلااجازت بیع اور بیع بشرط ِالخیار میں حکم یعنی ثبوت ِملک اجازت ملنے تک اور خیار ساقط ہونے تک مؤخرہوجاتا ہے،تو یہ بیع اسماً اور معنی ًتو علت ہے، حکماً علت نہیں ہے ،کیونکہ بیع اور ثبوت ِ ملک کا زمانہ ایک نہیں ہے ،کیونکہ بیع تو ابھی ہوئی مگر ملک اجازت کے بعد ثابت ہوگی ،ایسے ہی بیع بشرط الخیار میں بیع تو ابھی ہوئی مگر ملک تین دن کے بعد ہوگی ،تو یہاں بیع اور حکم میں تراخی زمان کی وجہ سے سبب اور مسبب کا شبہ پیداہوتا ہے، کیونکہ سبب اور مسبب کے زمانہ میں تراخی ہوتی ہے،لیکن یہ محض شبہ ہے،بیع اور ثبوتِ ملک سبب اور مسبب نہیں ہیں،بلکہ علت ومعلول ہی ہیں،اس کی دلیل یہ ہے کہ جب مانع ختم ہوجائے گا یعنی مالک نے اجازت دیدی اور خیار شرط کی مدت پوری ہوگئی تو بیع کاحکم (ملکیت) ابتداسے ہی یعنی وقتِ عقد سے ہی ثابت ہوتی ہے نہ کہ مانع کے زائل ہونے کے وقت سے ،اگر سبب مسبب کا اعتبار ہوتا تو ازالۂ مانع کے وقت سے ملکیت ثابت ہوتی ، معلوم ہوا کہ بیع علت ہے سبب نہیں ہے،اسی لئے بیع موقوف میں جب تک مالک نے اجازت نہیں دی ہے اس دوران اور بیع بشرطِ الخیار میں خیار کی مدت پوری ہونے کے دوران جو نفع حاصل ہوا یعنی جانور نے بچہ دیا یااس کا دودھ وغیرہ اس کا مستحق مشتری ہی ہوگا۔
وکذلک عقد الاجارۃ:-بیعِ موقوف اور بیع بشرط الخیار کی طرح عقد اجارہ بھی اسمًا اور معنًی علت ہے حکمًا علت نہیں ہے، اسمًا اس لئے علت ہے کہ عقد اجارہ ملکِ منفعت کے لئے وضع کیا گیا ہے اور حکم یعنی ملکِ منفعت اسی کی طرف منسوب ہے، اور معنیً اس لئے علت ہے کہ عقد ِاجارہ حکم یعنی ملکِ منفعت میں مؤثر ہے، اور حکمًا اس لئے