وعلی ھذا تخرج:-جب سنت کی دو قسمیں ہیں تو اسی پر ان الفاظ کی تخریج ہوگی جو امام محمدؒ نے مبسوط کے باب الاذان میں ذکر فرمائے ہیں، کسی جگہ یَکْرَہُ کا لفظ ہے،ویکرہ الاذان قاعدًا__ کسی جگہ اَسَاءَ کالفظ ہے وان صلی اھل مصرٍ بجماعۃبغیر اذانٍ فَقَدْ اَسَاءَ __کسی جگہ لابأس بہ کا لفظ ہے لابأس بِاَنْ یؤذن رَجُلٌ ویقیم آخر،--توجہاں یکرہ اور اساء ہے وہاں سنت ِمؤکدہ اورسنت ہدی کاترک مراد ہے، اورجہاں لابأس ہے وہاں سنتِ زوائد کاترک مراد ہے،__ اور کسی جگہ یُعِیْدُ کالفظ بھی ہے تو اس سے وجوب مراد ہے۔
والنفل اسم للزیادۃ:-چوتھی قسم نفل ہے، نفل کے معنی زیادتی کے ہیں تو نفل عبادتیں ہمارے اوپر زائد ہیں، جوہمارے فائدے کے لئے شریعت نے مشروع کی ہیں، وہ ہمارے اوپر لازم نہیں ہیں۔
نفل کاحکم یہ ہے کہ بندہ کو اس کے کرنے پر ثواب ملے گانہ کرنے پر عقاب نہ ہوگا۔
ویضمن بترکہ بالشروع:-مصنفؒ ایک اختلافی مسئلہ چھیڑرہے ہیں کہ اگر کسی نے نفل شروع کرکے اس کو توڑدیا تو اس پر قضاء ہے یا نہیں؟امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ قضا نہیں ہے، کیونکہ ابتداء ً نفل بندہ پرنہیں تو بقاء ً بھی لازم نہیں ہے، یعنی ابتداء ًجیسے بندہ کو اختیار ہے کہ کرے یانہ کرے تو اسی طرح کرنے کے بعد بقاء میں بھی اختیار ہے چاہے تو باقی رکھے یا توڑے ،لہٰذا توڑسکتا ہے__ اور احناف کے نزدیک نفل کو شروع کرکے توڑدینے سے قضا لازم آئے گی ، کیونکہ بندہ نے نفل شروع کرکے جو حصہ ادا کردیا، وہ اللہ کے سپرد ہوگیا ،اور جو حصہ اللہ کے سپرد ہوا اس کی حفاظت ضروری ہے، اور اس کی حفاظت کی شکل یہی ہے کہ باقی حصہ بھی پورا کرلے، تاکہ تام ہوجائے، اگر تام نہ کیا تو اس کی حفاظت نہ ہوئی، لہٰذا مُؤدّٰی کوباطل ہونے سے بچانے کے لئے اس کو پورا کرنا لازم ہے، اگر پورا نہ کیا اور توڑدیا تو قضا سے اس کو تام کرے۔
وھو کالنذر:-مصنف ؒکہتے ہیں نفل کو شروع کرنا ایسا ہے جیسے نذر ماننا، کسی نے نذرمانی کہ میں اللہ کے لئے دورکعت نماز پڑھونگا ،تو بندے کے کہنے سے یہ نذر اللہ کے لئے ہوگئی، یہ نذر اللہ کے لئے صرف ذکرًا اور تسمیۃً ہوئی نہ کہ فعلًا ، کیونکہ فعل تو بندے نے ابھی نہیں کیا ہے، صرف نام لیا ہے، زبان سے تذکرہ کیا ہے تو یہ نذر صرف تذکرہ اور نام لینے کے اعتبار سے اللہ کے لئے ہوگئی_ _پھر اس زبانی ذکر اور قولی ذکر کی حفاظت ضروری ہے، اس کی حفاظت کے لئے فعل کی ابتدا ضروری ہے، کہ بندہ دورکعت فعلًا شروع کردے تاکہ ذکرًا اور قولًا جو اس نے نذر مانی تھی اس کی حفاظت ہوجائے__ تو جب نذر ماننے والے کے قولی ذکر کی حفاظت کے لئے فعل کی ابتداء واجب ہے تو ابتدائِ فعل کی حفاظت کے لئے اس کی بقاء بدرجۂ اولی واجب ہوگی، اور نفل شروع کرنے والا ابتدائِ فعل کرچکا ہے تو اس پر اس کی بقاء بدرجہ اولی واجب ہوگی، لہٰذا شروع فی النفل نذر کی طرح ہوگیا، بلکہ نذر سے ایک درجہ اوپرہے۔