اس کا غیر مالک نہ ہوگا سوائے قرض دینے کہ قاضی قرض دینے کا مالک ہوجائے گا، ہلاکت سے امن ہونے کی وجہ سے قاضی کی ولایت سے،اور بہرحال ردت وہ آخرت کے احوال میں عفو کا احتمال نہیں رکھتی ہے،اور وہ احکامِ دنیا جو اس کو لازم ہوتے ہیںطرفین کے نزدیک ،بر خلاف امام ابویوسف کے تو وہ اس کو لازم ہوتے ہیں صحتِ ارتداکے حکم سے نہ کہ الزام کے قصد سے،پس ارتداد کے مثل سے عفوصحیح نہیں ہے جیسا کہ ارتداد ثابت ہو اس کے والدین کی تبعیت میں۔
------------------------------
تشریح :-ماقبل میں بتایا گیا کہ جن معاملات میں نفع وضرو کا احتمال ہوتا ہے بچہ خود ان کا مالک نہیں ہوتا ہے البتہ ولی کی اجازت سے بچہ مالک ہوجاتا ہے،لہٰذا اگر صبی عاقل نے وکالت قبول کرلی تو بچہ پر اس کی ذمہ داری لازم نہ ہوگی یعنی مبیع کو سپرد کرنا یا ثمن کو سپردکرنا اور عیب کے بارے میں خصومت کرنا ،کیونکہ یہ چیزیں بچہ پر واجب کرنے میں اس کا ضرر ہے لہٰذا یہ چیزیں بجائے وکیل یعنی بچہ کے مؤکل پر لازم ہوں گی ،البتہ اگر ولی کی اجازت سے کررہا ہے تو بچہ پر ذمہ داری لازم ہوجائے گی کیونکہ ولی کی اجازت سے بچہ کی رائے کے قصور کی تلافی ہوجائے گی ،اور بچہ اس ذمہ داری کا اہل ہوجائے گا__ اور اسی احتمال ِضررکی وجہ سے اگر بچہ نے اپنے مال میں کسی نیک کام کے لئے وصیتِ کی مثلاً یوں کہا کہ میرا مال فلاں مدرسہ میں دے دینا تو ہمارے نزدیک یہ وصیتِ باطل ہے،اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ وصیتِ درست ہے کیونکہ نیک کام کی وصیت سے بچہ ثواب آخرت حا صل کرے گا جو اس کے لئے سراسر نفع ہے،اور پہلے بتایا جاچکا کہ نفع والے ہر تصرف کا بچہ مالک ہوتا ہے ،لہٰذا وصیت کا بھی وہ مالک ہوگا ۔
مصنفؒ امام شافعیؒ کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں کہ بچہ کی وصیت میں اگر چہ بظاہر اخروی نفع ہے مگرحقیقت میں نفع نہیں ہے کیونکہ اس کا مال بغیر بدل کے تبرع کے طور پر زائل ہورہا ہے ،اور رہا اخروی نفع وثواب تویہ غیر معتبر ہے کیونکہ موت کی وجہ سے بچہ مال سے مستغنی ہوگیا تو ایسے وقت میں اپنے مال کو نیک کام میں خرچ کرنا کیا باعث ثواب ہوگا، آخرت کاکا مل ثواب تو اس وقت ملتا جب یہ صدقہ اس وقت ہوتا،جب اس کو مال کی کامل حاجت ہوتی،لہٰذا یہ تو مری ہوئی بکری اللہ کے نام والاحساب ہوا،تو اس نفع کا اعتبار نہ ہوگا ۔
لان الار ث شرع:-اور اگر خروی نفع تسلیم بھی کرلیں تو بھی وصیت باطل ہے کیونکہ میراث مورث کے نفع کے خاطر مشروع ہوئی ہے ،کیونکہ اس کے مال سے اس کے ورثہ فائدہ اٹھارہے ہیں،جس میں رشتہ داروں کو فائدہ پہنچانا اور صلہ رحمی ہے ،جس کا مورث کے لئے بڑا اجر ہے،اسی کی طرف حدیث میں اشارہ ہے’’لان تدع ورثتک اغنیاء خیر من تدعھم عالۃ یتکففون الناس‘‘حضورﷺ نے حضرت سعدؓ سے فرمایا تیرا اپنے روثہ کو مالداربناکر چھوڑنا بہتر ہے اس سے کہ توان کو محتاج بناکر چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں،__غرض میراث میں مورث کا نفع ہے،اسی لئے بچہ کے حق میں میراث مشروع ہے ،یعنی بچہ کی موت پر اس